منتخب غزلیں

برگشتۂ یزدان سے کُچھ بھول ہوئی ہے بھٹکے ہوئے انسا…

برگشتۂ یزدان سے کُچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوئے انسان سے کُچھ بھول ہوئی ہے

تا حدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لُٹ جائے فقیروں کی کمائی
اُس عہد کے سلطان سے کُچھ بھول

ہوئی ہے

ہنستے ہیں مری صورتِ مفتوں پہ شگوفے
میرے دلِ نادان سے کُچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مے و ساغرًؔ سے ہے نفرت
زاہد ترے عرفان سے کُچھ بھول ہوئی ہے

(ساغرؔ صدیقی)

انتخاب: فیصل خورشید


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/