منتخب غزلیں

آغوشِ جنو ں میں جارہا ہوں ہر غم سے نجات پارہا ہوں …

آغوشِ جنو ں میں جارہا ہوں
ہر غم سے نجات پارہا ہوں
وہ ناو مجھی کو لے کے ڈوبی
جس ناو کا ناخدا رہا ہوں
………………..
سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا یوم وصال
13 February 2009
(یومِ ولادت : 14 نومبر 1949 ، یومِ وصال :13 فروری 2009 ، )
منتخب کلام
———-
دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں
غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں
یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام
آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں
عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں
میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
۔۔۔۔۔۔
لاکھ ڈھونڈا مگر نہیں ملتا
کوئی بھی ہم سفر نہیں ملتا
ہ بھی اس سے کبھی نہیں ملتے
کوئی ہم سے اگر نہیں ملتا
———-
اس کو چل پھر کے ڈھونڈنے والو
وہ سرِ رہگذر نہیں ملتا
———-
جگمگانے لگی بام و در چاندنی
ہر طرف آرہی ہے نظر چاندنی
ان کے جلووں کی تشریح ممکن نہیں
سر بہ سر نور ہیں سر بہ سر چاندنی
———-
بلا کی نامہ ء اعمال پر ہے گل کاری
کسی کی ہوگی عبارت ، مرا قلم تو نہیں
———-
یہ بزمِ بتا ں ہے نظارو ں کی دنیا
اداوں کی بستی اشاروں کی دنیا
ہمیں ہے فقیری میں شاہی میسّر
کہاں ہم ، کہا ں تاجداروں کی دنیا
۔۔۔۔۔۔
مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک
مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہے
انہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا
مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترے در سے بھی نباہے، در غیر کو بھی چاہے
مرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوں
مجھے اس طرح کی جرأت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
میں یہ جانتے ہوئے بھی، تری انجمن میں آیا
کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
تو اگر نظر ملائے، مرا دم نکل ہی جائے
تجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو گلہ کیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا
مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہ
مرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
یہ کرم ہے دوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے
کہ نصیرؔ پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
———-
کیا دل مرا نہیں تھا تمہارا، جواب دو!
برباد کیوں کیا ہے؟ خدارا جواب دو!
کیا تم نہیں ہمارا سہارا، جواب دو!
آنکھیں ملاؤ ہم کو ہمارا جواب دو!
کل سے مراد صبحِ قیامت سہی، مگر
اب تم کہاں ملو گے دوبارہ جواب دو!
چہرہ اداس، اشک رواں، دل ہے بے سکوں
میرا قصور کیا ہے تمہارا جواب دو!
دیکھا جو شرم سار، الٹ دی بساطِ شوق
یوں تم سے کوئی جیت کے ہارا، جواب دو!
میں ہو گیا تباہ تمہارے ہی سامنے
کیونکر کیا یہ تم نے گوارا، جواب دو!
تم نا خدا تھے اور تلاطم سے آشنا
کشتی کو کیوں ملا نہ کنارہ، جواب دو!
شام آئی، شب گزر گئی، آخر سحر ہوئی
تم نے کہاں یہ وقت گزارا، جواب دو!
لو تم کو بلانے لگے ہیں نصیر وہ
بولو ارادہ کیا ہے تمہارا، جواب دو!
———-
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا
ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا
شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا
وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا
کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا
چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن
جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا
وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا
………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/