منتخب غزلیں
عشق نے کیا کیا رَنج سہے، تم کیا جانو آگ میں کِتنے…
عشق نے کیا کیا رَنج سہے، تم کیا جانو
آگ میں کِتنے پُھول کِھلے، تم کیا جانو
ہجر کی کالی رات میں، کیسے کیسے لوگ
خاک میں مِل کر خاک ہوئے تم کیا جانو
ہم نے ایک تمہارے نام کی خوُشبو سے
کِتنے دشت بہار کیے، تم کیا جانو
اپنی کتابِ عُمر کی ساری سطروں میں
ہم نے کِس کے خواب لِکھے، تم کیا جانو
تم بچھڑے تو ہم نے اپنی پلکوں پر
کِتنے دریا روک لیے ، تم کیا جانو
سُر کی چھاؤں میں، لفظ کی کلیاں کِھلنے تک
ہم تو سب کچھ بُھول گئے، تم کیا جانو
(ایُوب خاور)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

