منتخب غزلیں

دل کے ہاتھوں کہیں دنیا میں گزارا نہ رہا ہم کسی …

دل کے ہاتھوں کہیں دنیا میں گزارا نہ رہا
ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتی
ٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہا

یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومی
وہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہا

اور تو کیا تھا انہیں اپنا سمجھنے کے سوا
وہ بھی اب عشق کی غیرت کو گوارا نہ رہا

چھن گئی آخری امید بھی دل سے اشعرؔ
یہ سہارا ہے کہ اب کوئی سہارا نہ رہا

(حکیم حبیب اشعر دہلوی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/