مختصر کہانیاں

#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #قسط_نمبر_06 آریان…

#لذتِ_عشق
#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_06

آریان نے جب اس سائیڈ پےدیکھا توجلدی سے آگے بڑھا
مس آپ پاگل ہو گئی….(اسکارخ اپنی طرف کرنے پڑ اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئےکیوں کے وہ کوئی اور نہیں وفا تھی اتنے میں حرم بھی ان تک پہنچ چکی تھی
"وفا تم ادھر کیا کر رہی ہواور یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے” (حرم نے وفا کو دیکھ کر پوچھاکیوں کے ان کی کافی اچھی جان پہچان تھی
وفاآگے سے کچھ نہیں بولی وہ بس آریان کو دیکھے جا رہی تھی
"وفا آؤہم تمہیں ہوسٹل چھوڑ دیتے ہیں مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی” ( آخرکار آریان ہی بولا
"اب کیا چاہتے ہو آپ برباد کر دیا نا مجھے کر دیا بدنام مجھےسب کے سامنےجن لڑکیوں سے میں بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی آج وہ لڑکیاں مجھ پڑ انگلیاں اٹھا رہی ہیں بولیں کیا بگاڑا تھا میں نے کیوں کیا اپنے میرے ساتھ ایسا "(وہ چیختے چیحتےبیہوش ہو کر گرنے لگی کے آریان نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا
اور جلدی جلدی اسے لے کے گاڑی کی طرف بڑھاحرم بھی اسکے ساتھ ہی تھی اسنے جلدی سے وفا کو پچھلی سیٹ پے لیٹایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہسپتال میں تھے ڈاکٹر وفا کو چیک کر رہے تھے اور آریان اور حرم ٹینشن میں کھڑےتھے ڈاکٹر وفا کو چیک کرکے باہر آے
"ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے بس سٹریس کی وجہ سے بیہوش ہو گیئں ہیں ابھی نیند کا انجکشن لگایا ہے کچھ دیر بعد ہوش میں آئیں تو آپ گھر لے جا سکتے ہیں”
ڈاکٹر اپنی تسلی دے کے جا چکا تھا حرم نے وفا کے موبائل سے سارا کو کال کر کے بلایا تھا اور کچھ ہی دیر بعد سارا بھی پہنچ چکی تھی
انہیں دیکھتے ہی وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی
"کیا ہوا ہے وفا کو حرم ؟(اس نے پریشانی سے حرم سے دریافت کیا
"پریشانی کی بات نہیں ہے شائد کوئی ٹینشن لی ہے جسکی وجہ سے بیہوش ہو گئی” (حرم نے صاف بات بتائی
"اب کدھر ہے وفا ”
"روم میں ہے ابھی سو رہی ہے آجاؤ کمرے میں چلتے ہیں” (حرم نےکہا جب کے آریان میڈیسن لینے گیا ہوا تھا
تھوڑی دیر بعد وفا کو ہوش آگیا تھا حرم اور سارا اسکے پاس ہی تھیں
وفا کو ہوش میں آتے دیکھ کر سارا جلدی سے اسکے قریب آئ
"تم ٹھیک ہو وفا”؟
” میں ٹھیک ہوں سارامجھے ہوسٹل لے چلو پلیز”
"اچھا ٹھیک ہے چلتے ہیں ابھی”
"میں بھائی کو کال کرتی ہوں وہ باہر ہی ہیں” (حرم نے نرمی سے کہا
"نہیں ہم لوگ چلیں جائیں گے”(وفا نے کہا
"وفا یار کیوں ضدکر رہی ہو سر چھوڑ دیں گے نا” (سارا کے کہنے پے وفا چپ ہو گئی کیوں کے وہ تماشا نہیں لگانا چاہتی تھی راستے میں حرم اور سارا تو باتیں کرتی آئیں تھیں لیکن وفا آنکھیں موندےبیٹھی رہی تھی آریان بیک مرر سے گاہے بگاہے نظر ڈالتےرہا تھاان دونوں کو اتارنے کے بعد گھر آکے سیدھا اپنے روم میں چلا گیا تھااور مسلسل وفا کے بارےمیں سوچ رہا تھا اسے وفا کی حالت پے دکھ ہو رہا تھایہ قدرتی بات ہےکے جس کو سب سے زیادہ چاہیں اور اسے آپ کی وجہ سےدکھ پہنچےتو تکلیف ہوتی ہے اور بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے آریان کو بھی اس وقت وہی تکلیف ہو رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے جن کی وجہ سے وفا کو تکلیف پہنچی ان کاحشر کر دے اسنے وضو کر کے اپنے اللہ‎ سے د عا کی تو دل کو تھوڑا سکون ملا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفا ہوسٹل آنے کے بعد چپ تھی اور شائد انجکشن کا اثر تھا کے اس پے غنود گی طاری ہو گئی اور وہ سوچتے سوچتے ہی نیند کی وادیوں میںاتر گئی اور سارا جو کے آج کےوا قع سےبہت پریشان ہو گئی تھی اسنے سوچا کے کل بات کر لے گی وفا سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے دن وفا اور سارادونوں نے کالج سے چھٹی کی تھی وفااور سارا نے جب ناشتہ کر لیا تو سارا بولی
"یارمجھے کچھ چیزیں لینی ہیں مارکیٹ چلیں”
"نہیں سارا میرا دل نہیں ہے تم اکیلی چلی جاؤ”
"تمہیں پتا ہے وفامیں تمہارے بغیر نہیں جاتی پھر بھی تم ایسےبول رہی ہو” (سارا نے خفگی سے کہا وہ وفا کو باہر ل کے جانا چاہتی تھی تا کے اس سے بات کر سکے
"چلو یار چلتی ہوںناراض تو نا ہو نا” (اس نے سارا کی خفگی کی پرواکرتے ھوے کہا ورنہ اسکا دل بلکل بھی نہیں تھا
سارا نے کچھ شاپنگ کی اور پھر وہ لوگ ایک ریسٹورنٹمیں آگئیںاور قدرے الگ ٹیبل پے بیٹھ گئیں
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سارا بولی
وفا کیا بات ہے کل تم نے کیا ٹینشن لی تھی جس کی وجہ سے تمہاری طبیعت حراب ہو گئی
"کچھ نہیں ہوا بس ایسے ہی” (وفا نے نظریں چراتے ھوے کہا
وفا مجھے بھی نہیں بتاؤ گی کیا اب مجھ سے بھی چھپاؤگی
سارا کے اس طرح کہنے پڑ وفا کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور اسنے ہربات سارا کوبتا دی تھی
سارا میں اب کالج نہیں جاؤں گی بھائی کے پاس چلی جاؤں گی (وفا نے روتے ھوے کہا
وفا پاگل ہو گئی ہو کیا کوئی کچھ بھی بولے گا اور تم سب چھوڑ چھاڑ کر چلی جاؤ گی لوگوں کی پروا کرنا چھوڑ دو لوگ تو ہر بات پے موقع ڈھونڈتے ہیں پرتمہیں تو اپنا پتا ہے نا اور جہاں تک سر والی بات ہے تو یار تم اگنورکرو انکو آج کل محبت کچھ نہیں ہوتی باقی تمہاری مرضی اور اب میں تمہارے منہ سے یہ الٹی سیدھی باتیں نا سنوں (سارا نے تھوڑا غصے کہا جس پر وفا مسکرا دی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kren
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/