منتخب غزلیں

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں علی جواد زی…

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں
علی جواد زیدی
شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں
ہاں مگر اشک جب امڈے تھے چھپائے تو نہیں

تیری محفل کے بھی آداب کہ دل ڈرتا ہے
میری آنکھوں نے در اشک لٹائے تو نہیں

چھان لی خاک بیابانوں کی ویرانوں کی
پھر بھی انداز جنوں عقل نے پائے تو نہیں

لاکھ پر وحشت و پر ہول سہی شام فراق
ہم نے گھبرا کے دیے دن سے جلائے تو نہیں

اب تو اس بات پہ بھی صلح سی کر لی ہے کہ وہ
نہ بلائے نہ سہی دل سے بھلائے تو نہیں

ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

انقلاب آتے ہیں رہتے ہیں جہاں میں لیکن
جو بنانے کا نہ ہو اہل مٹائے تو نہیں

اپنی اس شوخی رفتار کا انجام نہ سوچ
فتنے خود اٹھنے لگے تو نے اٹھائے تو نہیں

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/