منتخب غزلیں

نوبہار ہوٹل کے طیفو نے مجھے بتایا کہ ایک دوپہر ساغ…

نوبہار ہوٹل کے طیفو نے مجھے بتایا کہ ایک دوپہر ساغر صدیقی آیا تو اس کے ہاتھ میں پانچ سو روپے کا نوٹ تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اب کے میں ریشم کا بستر بنواؤں گا، ساغر نے سگریٹ پی چائے منگوائی اور بستر لینے چلا گیا مگر تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو طیفو نے پوچھا
” بابا تم تو بستر لینے گئے تھے ” ساغر نے جواب دیا ” لے لیا ہے طیفو”
مگر بستر ہے کہاں اور باقی

رقم کیا ہوئی؟؟
ساغر نے اس سڑک کے پار بجری پر لیٹے ہوئے کسی ننگے شخص کو دکھا کر کہا ” اس کو دیکھ کر بستر کا خیال ترک کر دیا اور سارے روپے اسے دے دئے "

(یونس ادیب کی کتاب ” شکستِ ساغر ” سے اقتباس)

"رنگ تغزل”

اے دلِ بے قرار!! چپ ہو جا
جا چکی ہے بہار،چپ ہو جا

اب نہ آئیں گے روٹھنے والے
دیدۂ اشک بار!!چپ ہو جا

جا چکا کاروانِ لالہ و گل
اڑ رہا ہے غبار، چپ ہو جا

چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو
روٹھ جاتے ہیں یار، چپ ہو جا

ہم فقیروں کا اس زمانے میں
کون ہے غمگسار، چپ ہو جا

حادثوں کی نہ آنکھ کھل جائے
حسرتِ سوگوار!!چپ ہو جا

گیت کی ضرب سے بھی اے ساغر
ٹوٹ جاتے ہیں تار، چپ ہو جا

(ساغر صدیقی) نشر مکرر

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/