منتخب غزلیں
( غیر مطبوعہ ) آدھی عورت کا دکھ دنیا والو ! …

( غیر مطبوعہ )
آدھی عورت کا دکھ
دنیا والو !
تم اقلیما سے واقف ہو
وه اقلیما
جس کی طلب میں
ریت نے پہلا خون پیا تھا
دنیا والو!
تم اقلیما کے عاشق ہو
دنیا والو!
میں اقلیما کی ماں جائی
جس کو تمهاری ناقدری نے
ریت میں زنده گاڑ دیا تھا
( ماورا سیّد )

