ماہرؔ القادری کا یومِ پیدائش July 30, 1906 ماہرؔ …

July 30, 1906
ماہرؔ القادری کا اصل نام منظور حسین اور ماہرؔ تخلص تھا۔ وہ30 جولائی1906ء کو ضلع بلند شہر (یو۔پی بھارت) کے ایک قصبہ کسہیہ کلاں میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کا نام معشوق علی تھا۔ماہر القادری نے قرآنِ حکیم اور اُردو کی ابتدائی تعلیم گائوں کے مکتب سے حاصل کی۔1926ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پاس کیا۔ مولانا عبد القادر بدایونی کی سفارش پر ماہر صاحب نے 1926ء کو حیدر آباد دکن میں محکمہ ڈاک میں ملازمت حاصل کی۔ حیدر آباد دکن میں کم و بیش پندرہ برس تک مقیم رہے۔ 1944ء میں بمبئی منتقل ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپریل1949ء کو ماہر نے ماہنامہ ’’فاران‘‘ کا اجراء کیا جو بڑی پابندی کے ساتھ29 برس تک شائع ہوتا رہا۔1954ء میں ماہر صاحب نے حج کے مشاہدات و تاثرات پر ’’کاروان حجاز‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کی۔ ماہر القادری کی شاعری کی کتب1939ء سے 1956ء تک منظر عام پر آتی رہیں، جو درج ذیل ہیں: ۱۔ ظہورِ قدسی (نعتیہ مجموعہ) ۲۔ محسوسات ماہر ۳۔ نغماتِ ماہر ۴۔ ذکرِ جمیل ۵۔ جذباتِ ماہر ۶۔ فردوس مجموعی اعتبار سے ماہر کی صحت عمر بھر قابل رشک رہی آخری چند سال وہ عارضہ قلب میں مبتلا رہے اور72 برس کی عمر میں1978ء کو وفات پا گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لا الٰہ الا اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعاۓ شام سحر لا الٰہ الا اللہ
یہی ہے یاد سفر لا الٰہ الا اللہ
سکونِ قلب و جگر لا الٰہ الا اللہ
کمالِ فکر و نظر لا الٰہ الا اللہ
نہ کہکشاں نہ قمر لا الٰہ الا اللہ
نہ کچھ ادھر نہ ادھر لا الٰہ الا اللہ
تمام ملتیں باطل ہیں صرف اک اسلام
یہی ہ راہ گذر لا الٰہ الا اللہ
اسی میں دولت دنیا اسی میں دولت دیں
متاعِ اہل خبر لا الٰہ الا اللہ
ملا رہا ہوں نگاہیں میں کجلاہوں سے
نہ خوف ہے نہ خطر ہے لا الٰہ الا اللہ
بتوں کو توڑ تخیل کے ہوں کہ پتھر کے
ذر بھی دیر نہ کر لا الٰہ الا اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی
سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں
سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں
سلام اس پر، وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے
سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے
سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
سلام اس پر، جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا
سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا
سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے
سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی
سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی
سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
سلام اس پر، شکستیں جس نے دیں باطل کی فوجوں کو
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا
سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا
سلام اس پر کہ جس کا نام لیکر اس کے شیدائی
الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت، اوج دارائی
سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھادیتے ہیں ٹکڑا، سرفروشی کے فسانے میں
سلام اس ذات پر، جس کے پریشاں حال دیوانے
سناسکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے
درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی
درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی
درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں
درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں
درود اس پر، جسے شمع شبستان ازل کہئے
درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہئے
صلی اللہ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت
کہاں میں ، کہاں مدحِ ذاتِ گرامی
نہ سعدی، نہ رومی، نہ قدسی نہ جامی
پسینے پسینے ہُوا جا رہا ہوں
کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی
سلام اس شہنشاہ ِہر دو سرا پر
درود اس امامِ صفِ انبیاء پر
پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں
مگر اﷲ اﷲ خصوصی پیامی
فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں
کہ تشریف لاتے ہیں شاہ رسولاں
خوشا جلوہ ماہتابِ مجسم
زہے آمد آفتاب تمامی
کوئی ایسا ہادی دکھادے تو جانیں
کوئی ایسا محسن بتا دے تو جانیں
کبھی دوستوں پر نظر احتسابی
کبھی دشمنوں سے بھی شیریں کلامی
اطاعت کے اقرار بھی ہر قدم پر
شفاعت کا اقرار بھی ہر نظر میں
اصولًا خطاؤں پہ تنبیہ لیکن
مزاجاً خطا کار بندوں کے حامی
یہ آنسو جو آنکھوں سے میری رواں ہیں
عطا ئے شہنشاہ ِکون و مکاں ہیں
مجھے مل گیا جامِ صہبائے کوثر
میرے کام آئی میری تشنہ کامی
فقیروں کو کیا کام طبل و عَلم سے
گداؤں کو کیا فکر جاہ و حشم کی
عباؤں قباؤں کا میں کیا کروں گا
عطا ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی
انہیں صدقِ دل سے بلا کے تو دیکھو
ندامت کے آنسو بہا کے تو دیکھو
لیے جاؤ عقبی میں نامِ محمد ﷺ
شفاعت کا ضامن ہے اسمِ گرامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کی فریاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں،آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں
جز دان حریر و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطا مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ۔ اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول و قسم لینے کیلئے تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں
کہنے کو میں اک اک جلسے میں پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں، سو بار رلایا جاتا ہوں
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں، کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآلِ گل کی خبر کو ششِ صبا معلوم
کلی کلی کو ہے گلشن کی انتہا معلوم
ہر اک قدم رہِ الفت میں ڈگمگاتا ہے
یہ ابتدا ہے تو پھر اس کی انتہا معلوم!
تجلیات کی اک رو میں بہ چلا ہے دل
نہ آرزو کی خبر ہے نہ مدعا معلوم
چلے ہیں اُس کے طلبگار سوئے دیر و حرم
جو کوششیں ہیں یہی ہو چکا پتا معلوم
ہر ایک پھول میں دوڑی ہے انبساط کی روح
چمن میں آکے وہ کیا کہہ گئے خدا معلوم
مری حیات بھی فطرت کا اک معمّا ہے
مرے وجود کو میرا نہیں پتا معلوم
نگاہ ملتے ہی ماہر میں ہوگیا غافل
پھر اس کے بعد کو کیا کچھ ہوا، خدا معلوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیغ پھر بے نیام ہو جائے
ہاں ذرا قتلِ عام ہو جائے
دل کو کوہِ الم سے ٹکرادوں
آج قِصّہ تمام ہوجائے
تجھ پہ زاہد، خدا کرے کہ شراب
خُلد میں بھی حرام ہو جائے
تم کسی دن جھلک دکھا جاؤ
دُور ہی سے سلام ہو جائے
ٹوٹ جائے حدِ خصوصیت
کاش دیدار، عام ہو جائے
مجھ پر اس طرح میکشی ہو فرض
یعنی توبہ حرام ہو جائے
بعد مدت کے آج تو ماہر
شغلِ شراب مدام ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ہے کامیاب
ذرّے بھی بے مثال، ستارے بھی لاجواب
اس طرح اُٹھ رہا ہے تِرا گوشہء نقاب
جلوے بھی کامیاب نگاہیں بھی کامیاب
ماتھا، نشاطِ حُسن سے کھلتا ہوا کنول
عارض فروغِ مے سے مہکتے ہوئے گلاب
میں نے پڑھا جو شعر تو وہ مسکرادیئے
اتنی ذرا سی بات میں جاتا رہا عتاب
قصداً تجلیوں کو دیا حُسن نے فروغ
دانستہ، چشمِ شوق پہ ڈالے گئے حجاب
یہ بے تکلفی، یہ نوازش، یہ ربط ضبط
گستاخ کر نہ دیں، یہ کرم ہائے بے حساب
ذوقِ نمود ہی سے عبارت ہے زندگی
موجوں پہ تیرتے ہیں اُبھرتے ہوئے حباب
میری نگاہِ شوق کی سر مستیاں نہ پوچھ!
ان کو بھی آج خوب پلا دی گئی شراب
اب زندگی کا لطف بہ عنوان درد ہے
ماہر بھی ہے حریمِ محبت میں بار یاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اگر بے نقاب ہوجائے
ہر نظر آفتاب ہوجائے
دیکھ اس طرح مست آنکھوں سے
پھول جامِ شراب ہوجائے
اک نگاہِ کرم مِری جانب
ذرہ پھر آفتاب ہوجائے
تم اگر وقتِ نزع آجاؤ
زندگی کامیاب ہوجائے
کم سے کم اتنی میکشی تو ہو!
روح غرقِ شراب ہوجائے
منتشر کر نظام دُنیا کا
ہر سکوں اضطراب ہوجائے
ہے بڑا خوش نصیب جو ماہر
بندہء بوتراب ہوجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تو ڈبو کر کشتی کو، خود ہی پار لگائیں گے
طُوفاں سے گر بچ نکلی، ساحل سے ٹکرائیں گے
کہہ تو دیا، اُلفت میں ہم جان کے دھوکا کھائیں گے
حضرتِ ناصح!خیر تو ہے، آپ مجھے سمجھائیں گے؟
یہ تو سب سچ ہے مجھ پر آپ کرم فرمائیں گے
لیکن اتنا دھیان رہے، لوگ بہت بہکائیں گے
عشق کی نظروں سے چھُپنا ، کھیل نہیں، آسان نہیں
مجھ کو جِلو میں پائیں گے، آپ جہاں بھی جائیں گے
چھوڑئیے اُس کی حالت پر دل کو، دل دیوانہ ہے
آپ کہاں تک ایسے کی غمخواری فرمائیں گے؟
ناکامی بیکار نہیں، رُسوائی کام آئے گی
ان ہی چند لکیروں سے افسانے بن جائیں گے
اُن کے آتے ہی میں نے دل کا قصہ چھیڑ دیا
اُلفت کے آداب مجھے آتے آتے آئیں گے
تیرے میخانے کی قسم، بے مانگے مل جاتا ہے
تیرے ہوتے اے ساقی! ہاتھ کہاں پھیلائیںگے؟
اب میں اُس منزل میں ہوں، جس میں دعا کرنا ہے گناہ
کچھ نہ زباں سے نکلے گا، ہاتھ اگر اُٹھ جائیں گے
تُو برباد، جہاں ناخوش، وہ بھی کچھ بیزار سے ہیں
ہم جو اے دل! کہتے تھے، نالے راس نہ آئیں گے!
اُس نے آنے والوں کا بڑھ کر استقبال کیا
شمع کو یہ معلوم نہ تھا، پروانے جل جائیں گے
میرے سیہ خانے میں کوئی، دلچسپی کی چیز نہیں
آپ کو فرصت ہی کب ہے، آپ یہاں کیوں آئیں گے!
اک دن میری آنکھوں میں ماہر آنسو بھر آئے
غربت گھبرا کر بولی، آپ وطن کب جائیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل میں اب آواز کہاں ہے
ٹوٹ گیا تو ساز کہاں ہے
آنکھ میں آنسو لب پہ خموشی
دل کی بات اب راز کہاں ہے
سرو و صنوبر سب کو دیکھا
ان کا سا اندا ز کہاں ہے
دل خوابیدہ، روح فسردہ
وہ جوشِ آغاز کہاں ہے
پردہ بھی جلوہ بن جاتا ہے
آنکھ تجلی ساز کہاں ہے
بت خانے کا عزم ہے ماہر
کعبے کا در باز کہاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے نگاہ دوست یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا
پہلے پہلے روشنی دی پھر اندھیرا کر دیا
آدمی کو درد دل کی قدر کرنی چاہیۓ
زندگی کی تلخیوں میں لطف پیدا کر دیا
اس نگاہ شوق کی تیر افگنی رکھی رہی
میں نے پہلے اس کو مجروح تماشا کر دیا
ان کی محفل کے تصور نے پھر ان کی یاد نے
میرے غم خانہ کی رونق کو دوبالا کر دیا
مے کدے کی شام اور کانپتے ہاتھوں میں جام
تشنگی کی خیر ہو یہ کس کو رسوا کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنس ہنس کے وعدے کۓ جا رہے ہیں
فریب تمنا دیۓ جا رہے ہیں
ترا نام لے کے جیۓ جا رہے ہیں
گناہ محبت کۓ جا رہے ہیں
مرے زخم دل کا مقدر تو دیکھو
نگاہوں سے ٹانکے دیۓ جا رہے ہیں
نہ کالی گھٹائیں نہ پھولوں کا موسم
مگر پینے والے پیۓ جا رہے ہیں
تری محفل ناز سے اٹھنے والے
نگاہوں میں تجھ کو لۓ جا رہے ہیں
مرے شوق دیدار کا حال سن کر
قیامت کے وعدے کۓ جا رہے ہیں
حرم تجلی میں ذوق نظر ہے
نگاہوں میں سجدے کۓ جا رہے ہیں
ابھی ہے اسیری کا آغاز ماہرؔ
ابھی تو فقط پر سیۓ جا رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی خوشی یہی ہے تو اچھا یونہی سہی
الفت کا نام آج سے دیوانگی سہی
ہر چند نامراد ہوں پھر بھی ہوں کامیاب
کوشش تو کی ہے کوشش برباد ہی سہی
غنچوں کے دل سے پوچھیۓ لطف شگفتگی
باد صبا پہ تہمت آوارگی سہی
جب چھڑ گئی ہے کاکل سب رنگ کی غزل
ایسے میں اک قصیدہء رخسار بھی سہی
ماہرؔ سے اجتناب نہ فمائیں اہل دل
اچھوں کے ساتھ گنہ گار بھی سہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس قیامت کی گھٹ چھائی ہے
دل کی ہر چوٹ ابھر آئی ہے
درد بدنام تمنا رسوا
عشق رسوائی ہی رسوائی ہے
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
دل دھڑکنے کی صدا آئی ہے
زلف و رخسار کا منظر توبہ
شام اور صبح کی یکجائی ہے
ہم سے چھپ چھپ کے سنورنے والے
چشم آئینہ تمشائی ہے
دل تمنا سے ہے کتنا بے زار
ٹھوکریں کھا کے سمجھ آئی ہے
تم سے ماہرؔ کو نہیں کوئی گلہ
اس نے قسمت ہی بری پائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


