منتخب غزلیں
میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہو گا اُس کے دروا…
میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہو گا
اُس کے دروازے پہ اب تک مرا سایا ہو گا
اُس نے بھرپور نظر جس پہ بھی ڈالی ہو گی
چاند نے اُس کو کلیجے سے لگایا ہو گا
کس طرح قتل کیا ہو گا میری یادوں کو
کتنی مشکل سے مجھے اُس نے بُھلایا ہو گا
جب چلی ہو گی کہیں بات کسی شاعر کی
اُس کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آیا ہو گا
اُس کی پلکوں کا تبسّم یہ پتہ دیتا ہے
اُس نے آنکھوں میں کوئی خواب سجایا ہو گا
زندگی اُس کی سلگتا ہوا صحرا ہو گی
جو تری آنکھوں پہ ایمان نہ لایا ہو گا
تم نے قیصرؔ مرے احساس کے ویرانے میں
میرے خوابوں کو تڑپتا ہوا پایا ہو گا
(قیصرؔ صدّیقی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

