محبت، خواب، اضطراب

پہلی قسط
شہر نے تاریکی اوڑھ لی تو وہ خاموش بستی سے بہت ساری خاموشی لے کر لوٹ آیا ۔شہر کی منڈھیروں پر جا بجا اداسی کی چڑیاں بیٹھی آنسوئوں کا دانہ چگنے میں مصروف تھیں اور شہر خوابوں کی دھند میں تیر رہا تھا ۔اس دھند میں سے کبھی کبھی نیند رسنے لگتی تو معصوم بچوں کی آنکھیں اس کو اپنے پیوٹوں پر اتار لیتی تھیں شہر کی گلیاں خوابوں سے بھر گئیں تھیں اور سارے خواب اپنی اپنی منزلوں کی سمت بھاگے چلے جارہے تھے۔انہیں وقت پر پہنچنا تھا ۔ دہلیزوں کھڑکیوں اور کواڑوں سے جھانکتی افسردہ آنکھیں سر شام ہی ان کے انتظار میں بیٹھ جاتی تھیں اور خواب وقت پر ان سے ملنا چاہتے تھے۔
وہ سوچنے لگا کے کبھی خواب جلد آنکھوں سے مل جاتے ہیں اور کبھی کبھی خواب بہت دیر کر دیتے ہیں ۔
جب وہ مسجد کے پاس پہنچا تو ایک خواب وہاں بیٹھا رو رہا تھا ۔آج اولڈ ہائوس میں لیٹا وہ بوڑھا باپ چپ چاپ مر گیا تھا جن آنکھوں کا وہ خواب تھا ۔آج جب وہ خواب اس کے بیٹے کے روپ میں وہاں اس سے ملنے پہنچا تو وہ بوڑھی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہو چکی تھیں۔وہ بوڑھا خواب کے لئے خواب بن گیا تھا ۔
چندقدم آگے خوابوں کی ایک ٹولی جلدی میں کہیں جارہی تھی روشن چہرے لئے مسکراتے خواب یہ وہ خواب تھے جو ایک نو بیاہتا جوڑا اپنے نومولود بچے کے لئے دیکھ رہا تھا ۔،
ایک بے زار صورت خواب بھی اسے راستے میں ملا۔یہ شہر کی ایک طوائف زادی کا خواب تھا جو روزانہ وہ اپنے گاہک کی صورت میں دیکھتی تھی۔راستے میں چلتے ایک بوڑھے خواب نے جو اسے دیکھا تو کہنے لگا یہ خواب حاملہ ہے۔اس کی کوکھ میں وہ خواب پل رہا ہے جو وہ طوائف زادی کبھی عورت بن کر دیکھا کرتی تھی ۔پتا نہیں وہ خواب کب پیدا ہوگا ،،بوڑھے خواب نے تاسف سے کہا تھا ۔
کہا ں سے آرہے ہو،؟خوابوں سے الجھتا ہوا جب وہ اپنی گلی میں داخل ہوا تو وہ کھڑکی میں گویا اپنے خوابوں کا انتظار کر رہی تھی۔وہ چونکا اور بغور اسے دیکھنے لگا اس کی شکل بھی خوابوں جیسی تھی وہ خواب جو بار بار دیکھے گئے ہوں۔
میرے خواب کہیں راستے میں ملے تمہیں۔؟۔اسے خاموش پاکر اس نے پھر سوال پوچھا تھا ۔
اسے یاد آیا کے راستے میں سماج کی زنجیروں میں جکڑے کچھ خواب اسے دکھائی تو دئیے تھے جن کی شکل بھی اس لڑکی کی آنکھوں سے بہت ملتی تھی۔وہ چپ رہا اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگا وہ خود خواب بنتی چلی جاری تھی ۔
دو سال پہلے ہی اسے طلاق ہوئی تھی اس کا شوہر نشہ کرتا تھا اور اسے مارتا پیٹتا تھا ایک شام وہ نشے میں دھت ہوکر گھر واپس لوٹا اور اسے بری طرح پیٹنے لگا اور پھر گھر سے باہر نکال دیا ۔۔وہ ساری رات دہلیز پر بیٹھی روتی رہی ۔کسی نے اسے گھر سے باہر روتا دیکھا تو بدچلن ہونے کا الزام لگا دیا اور کچھ دن بعد وہ طلاق کا داغ لئے گھرا ٓچکی تھی جہاں پر اس کی ماں ایک بھولے بسرے خواب کی طرح رہتی تھی۔اب وہ روزانہ کھڑکی میں کھڑی اچھے دنوں کا خواب دیکھتی تھی ایک گھر کا کسی کے ساتھ کا۔
کچھ بولو بھی چپ کیوں ہو ،کیا تم نے راستے میں میرے خواب دیکھے تھے ؟
وہ اسے بتانا چاہتا تھا کے اس کے خواب معاشرے کی قید میں پھنسے اس کی آنکھوں کا انتظار کر رہے ہیں پر اس کی خوابوں سے بھری خالی خالی آنکھوں کا خالی پن دیکھ کر وہ سچ بتا نہیں پایا اور کہنے لگا۔
ہاں وہ راستے میں ہی تھے بس پہنچنے والے ہیں ۔وہ اسکی آنکھوں کو انتطار بھرا خواب دے کر آگے بڑھ گیا تھا۔۔
کچھ آگے جاکر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ خاموشی سے آنے والے راستے کی سمت دیکھ رہی تھی جو دور دور تک خالی تھا۔وہ سوچنے لگا کاش وہ اس کی آنکھوں سے سارے خواب نوچ کر پھینک سکتا پر
خواب آنکھوں سے کبھی نوچے نہیں جا سکتے ہیں یہ ہمیشہ سے ہی آنکھوں میں موجود رہتے ہیں ..بس شعور سے لاشعور میں منتقل ہو جاتے ہیں اگر خواب نوچے جا سکتے تو بہت اچھی بات ہوتی کہ درخت سے خزاں کی آندھی جب پتے نوچ لیتی ہے تو درخت ان پتوں کو بھول کر آنے والی بہار پر توجہ کر لیتا ہے ایک نئی امید کے ساتھ…انسان ایسا نہیں کر سکتا خواب بھول نہیں سکتا بس بھولنے کی لا حاصل کوشش کر سکتا ہے.۔
وہ اپنے گھر کی سمت چلنے لگا اور جب گھرکے قریب پہچا تو دور سے ہی اپنے گھر سے ملے گھر کے دروازے پر کھڑی وہ بوڑھی دکھائی دی جو اس کے قریب پہنچتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ اپنے ساتھ اندر لے گئی اور ساتھ ساتھ بتانے لگی ۔
میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی بچے ،میں دیوار پر ایک تصویر ٹانگنے کی کب سے کوشش کر رہی ہوں پر موئی کیل ہے جو مجھ سے لگتی ہی نہیں ۔وہ اس بوڑھی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا جہاں ایک بوڑھا سویا ہوا تھا اور اس کے چہرے کی جھریوں سے خواب جھانک رہے تھے ۔
یہ تصویر ہے اسے سامنے والی دیوار پر لگانا ہے بوڑھی نے اس کے ہاتھ میں تصویر پکڑاتے ہوا کہا۔
وہ تصویر کو دیکھنے لگا تھا بلیک اینڈ واٗٹ تصویر میں وہ عورت جواب بنی بیٹھی تھی اور اس کی گودھ میں بچی تھی۔پیچھے بوڑھا ایک کم عمر لڑکے کو اٹھایا کھڑا مسکرا رہا تھا ،۔
وہ بیٹا اور بیٹی ان کو چھوڑ کر کر کب کے اڑ چکے تھے اب وہ دونوں اپنے گھونسلے میں تنہا رہتے تھے ۔
یہ لو ہتھوڑا اور کیل اس سامنے واکے دیوار پر لگا دو ،،بوڑھی کی اواز میں تنہائی بول رہی تھی ۔وہ بوڑھی کو دیکھنے لگا جو اسے دیوار پر خواب ٹانگنے کا کہہ رہی تھی وہ خواب جو شاید سویا ہوا بوڑھا دیکھ رہا تھا اور وہ جاگتی آنکھوں سے وہ خواب دیوار پر ٹنگا روز دیکھنا چاہتی تھی،۔اسے پہلی مرتبہ پتا چلا تھا کے خواب دیوار پر بھی ٹانگیں جا سکتے ہیں تصویر کی صورت میں ۔
وہ ہتھوڑے سے دیوار پر کیل لگانے لگا تو وہ پاس ہی کھڑی دیکھ رہی تھی اس لگنے لگا جیسے وہ بوڑھی کی یادوں میں موجو د و کسی دیوار پر خوبصور سا کوئی کا لمحہ گاڑھنے میں مصروف ہے ۔وہ لمحہ جب اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہوگی وہ سب اس گھر میں ہمیشہ ساتھ رہیں گے ہنستے مسکراتے ہوئے اور وہی لمحہ شاید اس تصویر میں قید تھا ۔کیل لگ گئی اور اس پر بوڑھی کا خواب ٹانگ دیا گیا تو وہ کہی لمحے تک دیوار پر ٹنگے اپنے خواب کو دیکھتی رہی تھی شائد وہ اب بھی کبھی کبھی وہ خواب دیکھتی تھی جب وہ بہت تنہا ہو جاتی تھی اور اپنے بچوں کی کمی کو بہت شدت سے محسوس کرنے لگتی تھی۔رکو بیٹا چائے بن گئی ہے پیتے جانا۔وہ کچن کی طرف جاتے ہوئی کہنے بولی۔۔وہ کچھ دیر اور اس کو اپنی تنہائی میں شریک کرنا چاہتی تھیں
کچھ دیر میں وہ چائے کے ساتھ واپس آئیں اور ایک کپ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔
وہ سوچنے لگا تھا کے وہ تنہائی اور خاوموشی سے اکتا گئی ہیں اور چپ کا زنگ ان کی زبانوں کو کھا گیا ہے آخر وہ کس سے باتیں کرتے دیواروں کے کان کہاں ہوتے ہیں ۔
کیا تم خواب دیکھتے ہو بیٹا ؟۔۔چائے کی پیالی میں تیرتے جیسے کسی خواب کو دیکھ بوڑھی نے اچانک پوچھا ،
جب می آرہا تھا تو شہر کی گلیوں میں جا بجا خواب بکھرے ہوئے تھے ان میں سے کوئی بھی خواب میرا نہیں تھا یا یوں کہوں کے کوئی بھی خواب مجھے اس قدر پسند نہیںا ٓیا تھا کے میں اسے دیکھنے کے لئے اپنے ساتھ لے آتا۔یا ہوسکتا کسی خواب کو میری آنکھیں ہی پسند نہ آئی ہوں وہ دھیرے سے مسکرایا ،
میں بھی اپنی مرضی کا خواب دیکھنا چاہتا ہوں جیسے شہر کے لوگ اپنی مرضی کا خواب دیکھتے ہیں
بوڑھی کچھ دیر دیوار پر ٹنگے اپنے خواب کو دیکھتی رہی اور پھر چائے کی پیالی میں کچھ ڈھونڈنے لگی۔
کیا آپ خواب نہیں دیکھتی ہیں ،،؟ْ وہ پوچھ بیٹھا تھا ۔۔
اب تو نہیں ،شاید وہ دیکھتے ہوں ،،وہ بوڑھے کی طرف دیکھ کر مسکرائیں ،
پر خواب تو دیکھنے چاہئے ان کے بغیر زندگی پھیکی پھیکی سی لگتی ہے بلکل ایسے ہی جیسے چینی کے بغیر یہ چائے ۔،
بوڑھی نے اس کی بات کو سنا اور کہنے لگیں ۔
میرے عمر اب خواب دیکھنے کی نہیں رہی۔اب تو میں روز ایک خواب ادھیڑنے بیٹھ جاتی ہوں جو کبھی میں گھر کے آنگن میں بیٹھ کر بنا تھا۔
وہ کچھ دیر رکیں اور دوبارہ کہنے لگیں ۔
ہاں جب میں جوان تھی تب بہت خواب دیکھا کرتی تھی ،ہر لڑکی ہی بہت سارے خواب دیکھتی ہے رنگ برنگے خوبصورت خواب وہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے جب خواب روزنہ ٓآپ کی پلکوں پر دستک دیتے ہیں ۔۔کبھی کبھی ہم لڑکیاں اس قدر خواب دیکھنے لگتی ہیں کے ہمارے لئے حقیقت اور خواب میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔
لیکن ہمارے خواب اکثر خواب ہی رہتے ہیں ۔کیا تمہیں بتائوں کے میرا پہلا خواب کب ٹوٹا تھا۔۔بات کرتے ہوئے انہوں نے اچانک سوال کیا ۔
جی ہاں ،اس نے سر اثبات میں ہلا دیا اور توجہ سے ان کو دیکھنے لگا۔
انہوں نے ایک طویل سانس اپنے اندر اتاری اور آنکھیں موند لی ،شاید وہ ٹوٹے خوابوں کو ایک جگہ یکجا کرنے میں مصروف تھی کچھ پل یونہی گزر گئے تو وہ بولنے لگیں ،
بہت پہلے کی بات ہے جب میں جوان تھی میں نے امتحان دئیے ہوئے تھے اور نتیجے کے انتظار میں تھی ۔میرا ارادہ انگلش میں ماسٹرز کرنے کا تھا اور میرے کمرے میں سجی کتابیں اس شوق کا منہ بولتا ثبوت تھیں مستقبل کے سپنے میری آنکھوں میں دئیوں کی ماند روشن تھے میرے دن رات بس اسی انتظار میں بسر ہو رہے تھے کے کب میرا نتیجہ ا ٓئے اور کب میں ٓآگے داخلہ لے سکوں ۔
میں نہیں جانتی تھی کے وقت میرے خواب پر ہنس رہا ہے ،اور نتیجہ آنے سے دو دن پہلے ایک شام میرے بابا کے دل میں شدید درد اٹھا جب تک ڈاکٹر اس درد کی دوا کرتے تب تک میرے بابا ارسلان خالد دم توڑ چکے تھے ۔
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کے کبھی میرے بابا یوں ہم سے بچھڑ جائیں گے ۔۔
اکثر جو باتیں ہم سوچتے ہیں وہ ہوتی نہیں ہیں یہ دنیا ہے یہاں سوچوں پر فیصلے کہاں ہوتے ہیں اگر سوچوں پر فیصلے ہونے لگے تو یہ دنیا ،دنیا نہیں جنت کہلانے لگتی، میرے ابو جو گھنے پیڑ کی طرح ہم پر سایہ کئے ہوئے تھے اور زمانے کے سارے موسموں کو اپنے آپ پر روکتے تھے اچانک گر گئے وہ میرے پہلا خواب تھا جو ٹوٹا تھا ۔ایک بیٹی کے لئے باپ پوری کائنا ت ہوتا ہے ۔باپ کے بنا بیٹیوں کا مستقبل تاریک ہونے لگتا ہے باپ نہر کی طرح ہوتا جو اپنے خون سے بھی وقت پڑ ھنے پر بیٹیوں کے مستبقل کی آبیاری کرتا ہے ۔مجھے لگا میں مر جائوں گی پر پر انسان بڑا ڈھیٹ ہوتا ہے یہ بڑے سے بڑا حادثہ ا ٓسانی سے جھیل جاتا ہے اور آنسوئوں میں اڑا دیتا ہے ۔میں بھی نہیں مری تھی زندہ رہی اور میرے بابا کو گھر سے چند قدم دور قبرستان میں دفنا دیا گیا۔اس کے بعد وقت اپنی رفتار سے چلنے لگا دن مہینوں میں اور سالوں میں ڈھلنے لگے اور وقت کے مرحم نے زخم بھر دیئے تو میرے دل میں پھر سے پڑھنے کی خواہش جاگی میں سوچنے لگی کوئی مناسب موقعہ دیکھ کر بھائی سے بات کروں گی پر وہ موقعہ آنا تھا ٰنہ آیا اس کی جگہ میری خالہ اپنے بیٹے کے لئے مجھے مانگنے چلی آئیں اور میری امی اور بھائی نے مجھ سے پوچھے بنا ہاں کر دی۔وہ شخص جسے میں نے کبھی پسند نہیں کیا تھا کم از کم اس حد تک تو نہیں کیا تھا کے اس کے لئے ایسا سوچوں میرا جیون ساتھ چن لیا گیا ۔میں ماں کے ا ٓگے بہت روئی پر کہاں۔ فیصلہ ہو چکا تھا ۔میری ماں نے جھولی پھیلا دی کے اگر تو اس سے شادی نہیں کرے گی تو کبھی کسی اور کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گی، میں ڈر گئی تھی آخر ماں کی بد دعا سے کیوں نہ ڈرتی میں نے ہار مان لی اور خود کو وقت کی سپرد کر دیا ۔ایک چھوٹی سی تقریب میں میری منگنی ہوگئی مجھے ایک ایسے خواب دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا جو میں دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔اکثر میں سوچنے لگتی ہم لڑکیاں بھی عجیب تقدیر لیکر ا ٓتی ہیں کوئی بھی اپنی مرضی سے ہمیں کسی کھونٹی پر گائے کی طرح عمر بھر کے لئے باندھ جاتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر پاتیں۔ہماری زندگی میں ہماری زندگی نہیں ہوتی ۔آنکھوں میں خواب تک دوسروں کے ہوتے ہیں ۔جب اپنے گھر ہوتی ہیں تو باپ اور بھائی کی مرضی پر جیتی ہیں جب پرائی ہو جاتی ہیں تو ہماری لگام شوہر کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے اور جب بوڑھی ہوجاتی ہیں تو اولاد کی سننی پڑھتی ہے ۔ہمارا پنا ا ٓپ تک اپنا نہیں ہوتا ہے سب پرایا ہوتا ہے ۔یہ سب سوچتے ہوئے اکثر میری آنکھوں سے کچھ آنسو بہہ نکلتے اور میں ان کو بہتا دیکھتی رہتی
میں اپنے ہی گھر میں اچانک مہمان بن گئی تھی ،شوہر تو سہارا ہوتے ہیں ،،جب اس کی ماں کہتی تو وہ مسکرا دیتی اور سوچنے لگتی کے ہم لڑکیوں کی ساری عمر سہاروں پر ہی کیوں بسر ہوتی ہیں ،باپ بھائی کا سہارا،شوہر اولاد کا سہارا،اور کبھی کبھی اتنے بہت سارے سہارے ہونے کے باواجود ہم بے سہارا ہوجاتی ہیں اور تب ہم خوابوں اور خیالات کا مصنوعی سہارا لیتی ہیں ۔وہ خواب توڑنے کی ابتدا تھی ۔
جب اپنے گھت تھی میں نے نے ایک بیٹی بن کر اپنے خواب توڑے اور پرائے گھر میں ایک وفادار بیوی بن اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹنے لگی کبھی بہو بن کر تو کبھی ماں بن کر ۔؎
کہانی لمبی ہوگئی بیٹا پر سچ کہوں تو اب مجھے یاد بھی نہیں میرے ے کتنے خواب ٹوٹے تھے ۔۔اتنا کہہ کر وہ سامنے دیور پر ٹنگے خواب کو پھر سے دیکھنے لگی اور ان کے چہرے پر خواب کی پراسرار لہریں جنم لینے لگیں ۔شاید دیوار پر ٹنگا خواب ان کے خوابوں میں سے آخری خوبصورت مگر ادھورا خواب تھا۔
وہ خاموشی سے اٹھا اور جازت لیکر باہر چلا آیا۔ کبھی عورت پر بھی کہانی لکھنا بیٹے ،اپنے پیٹھ پر اسے ان کی آواز سنائی دی تھی
جب وہ گلی میں نکلا تو اکا دکا خواب اب بھی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں تھے وہ ان کے تعاقب میں اپنے گھر کی سمت چلنے لگا،رات آدھی ڈھل چکی تھی اور صبح دبے پائوں چلی آرہی تھی ۔
————————————————————————-
کائنات نے تاریکی کا لباس اتار پھینکا اور مشرق سے جب سورج کی پہلی کرنوں نے زمین پر جھانکا تو وہ جاگ چکا تھا نسیم سحر کے جھونکے کھڑکی کے پردوں سے ٹکڑا کر اس کے بالوں کو بکھیر رہے تھے اور پرندے خوشنما آ واز میں صبح کا کوئی ترانہ الاپ رہے تھے۔اسے آج اکسی سے ملنے جانا ۔
جب شہر کی سڑکوں پر مشینوں اور انسانوں نے یلغار کی تو ہ گھر سے نکل آیا اور ہلکے قدموں سے چلتا ہوا شہر کے دوسرے کنارے کی طرف بڑھنے لگا کچھ دیربعد وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگائے اوپر شاخوں میں سے جھانکتے آسمان کو دیکھ رہا تھا ۔پرندے اپنے گھونسلوں سے اڑ چکے تھے اور ان کے جگر گوشوں کی قلقاریاں گھونسلوں سے سنائی دے رہی تھیں جن پتوں تک دھوپ نہیں پہنچی تھی ان پر اوس کی نمی ابھی تک موجود تھی ۔
وہ اپنے ارگرد کے ماحول میں کھویا ہوا تھا جب وہ اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی ۔
کل کہاں گئے تھے ؟۔پاس آتے ہی اس نے سوال کیا،
کل میں دوسرے میں شہر میں گیا تھا ۔مجھے پتا چلا تھا کے وہاں اشکوں کے دام بہت تھوڑے ہیں بس دیکھنے گیا تھا وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔
اور وہاں جاکر مجھے یقین آگیا کے وہاں بے حسی چھوت چھات کی بیماریوں کی طرح تیزی سے پھیل رہی ہے اور اکثر لوگ اس کے مریض بن گئے ہیں ۔مجھے یقین نہ ا ٓتا پر ایک گلی سے گزرتے ہوئے میں نے ایک بیٹے کو ماں پر کروفر سے چلاتے ہوئے سنا اور اس کی ماں ڈری ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔اور جب اس کی ماں کے گالوں پر آنسو بہنے لگے تو میں سخت خوفزدہ تھا،مجھے لگنے لگا کہ وہ آنسو اس بیٹے کی تقدیر کی سیاہی بن کر ہمیشہ کے لئے بد بختی کے حروف نہ بن جائیں،
اور جب میں شہر واپس پہنچا تو پتا چلا میرا ایک دوست مر گیا ہے مجھے حیرت ہوئی کے کل شام ہی تو ہم ملے تھے اور اسے نے بتایا نہیں تھا کے وہ اگلی صبح مرنے والا ہے۔اور نا اس کے انداز سے لگ رہا تھا کے موت اس پر نظریں جمائے شہر کے اونچے منارے پر بیٹھی ہے ۔
پھر مجھے اس کی سنائی ہوئی ایک کہانی یادا ٓئی
جس میں اس نے بتایا تھا کے وہ کافی عرصہ پہلے مر چکا تھا ۔کیا تم وہ کہانی سننا چاہو گی ۔؟ْوہ یقین کرنا چاہتا تھا کے وہ کہانی سننا چاہتی ہے یا نہیں۔
ہاں ضرور اس نے بھی تنے کا سہارا لیا۔اس کی ا ٓنکھوں میں اس کہانی کے لئے گہری دلچسپی تھی۔
اس دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اس نے فیصلہ کیا وہ کہانی اسے سنا دینی چاہئے،سو وہ آہستہ آہستہ سے کہانی کو جوڑنے لگا ۔
؎بہت پہلے ہمارے گائوں میں سیلاب آیا تھا جو سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا اس سیلاب میں میرے اس دوست نے شیدے کمہار کی بیٹی اسماء کو ڈوبنے سے بچایا تھا جو نہر میں بہہ گئی تھی۔میرے خیال میں اس وقت وہ نہیں جانتا تھا کے وہ ااس کی جان بچاتے ہوئے اپنی موت کا ساما ن کر رہا ہے۔اس نے اسے کو ڈوبنے سے تو بچا لیا پر خود اس میں بہت گہرا ڈوب گیا تھا ۔اس کے بعد وہ اکثر اس کے ارگرد منڈلاتا رہتا تھا اور ایک دن جب وہ اپنی سہیلی کے ساتھ کھیت میں سے سرسوں چننے میں مصروف تھی وہ ایک خط اسے پکڑا ٓیا تھا ،وہ زیادہ پڑھا لکھا تو نہیں تھا پر اسے امید تھی کے وہ دل کی بات اس خط میں لکھ آیا چکا تھا۔اور وہ بات اسماء نے سن بھی لی تھی ۔وہ بھٹی پر برتن لینے جاتا اور چور نظروں سے اسے کام کرتا دیکھنے لگتا۔پھر اس کی محبت کے سائے تلے بیٹھ کر اسماء نے دل کے چاک پر میرے دوست کو بنانا شروع کر دیا تھا۔،میرا دوست کہتا تھا وہ اسے بہت خوبصورت بنائے گی اور سارے اپنی مرضی کی رنگ اس میں بھرے گی ۔ ان کی محبت ابھی ٹھیک طرح سے پیدا بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک صبح جب وہ گائوں کے جوہڑ پر کہرے کی شیشہ نما چادر پر پتھر پھینکتے ہوئے اسے توڑنے کی کوشش کر رہا تب کہرے میں سے کسی نے چلا کر بتایا کے اسماء مر گئی ہے ۔وہ وہیں بیٹھ گیا تھا ۔جوہڑ پر سے کہرے کی چادر چھناکے سے ٹوٹی اور اس کے اندر بھی جیسے بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا اس کے پھینکے ہوئے پتھر تہہ میں ڈوب چکے تھے اور وہ خود بھی شاید وہیں اس جوہڑ کے کنارے پہلی بار مرا تھا ۔جب لوگ اسے دفنانے جارہے تھے تب بھی وہ وہیں بیٹھا تھا کسی نے اسے جنازے کے لئے بھی پکارہ تھا پر وہ نہیں گیا ،مجھے اس نے بتایا کے وہ اسماء کا ہنستا اور جیتا چہرہ ہی اپنی یادوں میں محفوظ رکھنا چاہتا وہ چہرہ جو اس کے لئے زندگی کی علامت تھا ۔جب گائوں والے اسے دفنا آئے تو وہ اس کی قبر کے سرہانے چلا آیا اور اس کی کی مٹی کو اٹھا لیا جس میں بہت ساری نمی تھی۔اس نمی میں اسماء کی آنسوئوں کی مہک اب باقی تھی۔وہ اس کی قبر پر اکیلا نہیں تھا اسماء کی آنکھوں کے خواب بھی وہاں بیٹھے آپس میں کچھ پراسرر ا سرگوشیاں کر رہے تھے ۔وہ روز اس کی قبر پر جاتا اور کچھ آنسوئو کی پھول چڑھا کر پہروں وہاں بیٹھا رہتا اور وہ ساری باتیں کرتا جو وہ اس کی زندگی میں اس سے کرنا چاہتا تھا تھا ۔اور واپسی پر ایک سوال اکثر کرتا ،کے کیا وہ اسے مکمل بنا چکی تھی ؟ اور اپنی مرضی کی سارے رنگ بھر اس میں بھر چکی تھی؟،،پھر ایک دن وہ جب وہ اس کی قبر کے کنارے بیٹھے بیٹھے اونگھ سا گیا تو وہ قبر میں سے چپکے سے نکل کر اس کے خواب میں چلی آ ئی اور اس کا سر اپنی گودھ میں رکھتے ہوئے بولی۔میں نے تمہیں بنا لیا تھا بس رنگ کرنا ہی باقی تھا اور میں دل کے آنگن میں بیٹھ کر روزانہ رنگوں کا انتخاب کرتی تھی پر اس سے پہلے کے میں کسی رنگ کا انتخاب کرتی موت میرا انتخاب کر چکی اور اس نے میری زندگی کے سارے رنگ ایک تاریک چادر میں لپیٹ دئیے تھے ۔وہ مجھے بہت دور لے جانے چلی آئی تھی۔میں نے تمہیں ایک سنہری گلدان کے شکل میں بنایا تھا جس پر چاہتوں کے خوبصورت دھاگوں سے نقش نگار کاڑھے تھے ۔میری خوا ہش ہے کے اس گلدان میں اچھائی کی پھول رہیں ہمیشہ اور برائی کے کانٹے نہ ہوں ۔
میں چند لمحوں کے لئے ہی آئی ہوں تمہیں بتانے کے جب دست قضا نے مجھے توڑا تب میں تمہیں بنا چکی تھی ۔اور سنو پتا نہیں کیوں پر ہم ایک بار پھر سے بچھڑنے والے ہیں،اس کی آنکھوں دو آ نسو ٹوٹ کر میری پیشانی پر گرے تھے۔
اور میں میں جاگ گیا ۔
میرے دوست نے مجھے بتایا تھا جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ قبر پر سر رکھے ہوئے تھے اور اس کی پیشانی پر دو پانی کی قطرے اس کے
آنسوئوں کی کی طرح چمک رہے تھے۔
مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کے وہ پھر کیسے بچھڑ سکتی ہے ۔دن گز گئے اور ساون اپنے اندر بدلتی رتوں کو لیکر آیا ۔ایک دن جب گائوں اندھیرے کے پروں کے نیچے سویا ہوا تھا تو بارش ہونے لگی ایسا لگتا تھا جیسے آسما ن سے زمین تک پانی کی چادر تان دی گئی ہو اور پھر آدھی رات کے قریب گائوں کی ندی غضب ناک ہوئی اور گھروں پر چڑھ آئی ۔ہمیشہ کی طرح سب اوپر ٹیلوں کی طرف بھاگے اور پانی اترنے تک وہیں اندھیرے میں بیٹھے کانپتے رہے اور دبی دبی سرگوشیوں میں ایک دوسے سے پیچھے رہنے والے سامان اور بھیڑ بکریوں کا تذکرہ کرتے رہے۔اگلے دن سورج طلوع ہوا تو ندی کا غصہ کم ہو چکا تھا اور وہ واپس اپنے راستے میں بہتی سستا رہی تھی۔ندی بہت کچھ بہا کر لے گئی تھی اور اسماء کی قبر کی جگہ بلکل ہموار ہو گئی تھی ۔مجھے سمجھ آگیا کے وہ پھر سے بچھڑنے کی بات کیوں کر ہی تھی۔اس کے بعد میرا دوست شہر چلا آیا کیوں کے وہ نہیں چاہتا کے اس کی قبر کو بھی ندی بہا لے جائے۔وہ کبھی کبھی واپس گائوں جاتا تھا جس جگہ اسماء کی قبر تھی وہ کہا کرتا تھا وہاں اس کے وجود کی خوشبو اب بھی پھرتی ہے اور اس کے خواب وہاں آج بھی روتے سنائی دیتے ہیں ۔میرے دوست نے اس کے لے ایک گیت بھی لکھا تھا جو وہ وہاں جاکر اکثر اس کو سناتا تھا، تم سنو گی ۔۔؟؟
وہ شاید اسماء کی قبر کے ساتھ بہت دور بہہ گئی تھی تبھی اس کے سوال پر چونک سی گئی۔
ہاں میں سننا چاہوں گی ،اس نے سرگوشی نما آواز کہا۔
خیام نے درختوں کی شاخوں پر کسی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور پھر گیت سنانے لگا ۔
ْ
تمہارے بعد گائوں کی ساری تتلیاں ہجرت کر گئی تھیں
اور پھولوں سے جدائی کی بساند آنے لگی تھی
گائوں کے سارے خواب کہیں کھو گئے تھے
اور گلیاں کچھ اور تاریک ہوں گئی تھیں
اور جب لوگوں نے کہا یہ بہار کا موسم ہے
تب میں نے تمہارے لئے ایک گیت لکھا تھا
وہ گیت میں تمہیں سنانے روز آتا ہوں
میں پوچھنا چاہتا ہوں کے تمہیں وہ گیت پسند آیا
پر جواب میں ہوا کی سنسناہٹ سنائی دیتی ہے
مجھے بتائو کیا تمہیں وہ گیت پسند آیا
جسے میں نے بہار کی آنسوئوں سے تشکیل دیا تھا۔!
دھوپ گیت کی پکار سننے آخری حد تک درختوں کی شاخوں پر چلی آئی تھی اور نمی بھاپ بننے لگی تھی ،وہ سوچنے لگا بہار کے ٓانسو گم ہونے لگے تھے،
مجھے افسوس ہے کے میں اس کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا ۔
اس نے خوفزدہ نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا
ٓآخر تمہیں مرنے اور جنازوں کی باتیں کرتے ہوئے ڈرد کیوں نہیںلگتا ۔شہر کا کوئی ایسا جنازہ ایسا بھی ہے جس پر تم نہ گئے ہو جن کو تم نہیں بھی جانتے ان کے جنازے پر پہنچ جاتے ہو آخر تم جنازوں میں کسے ڈھونڈتے ہو اور کیوں جاتے ہو ؟،اپنی آنکھوں میں بہت سارا خواف لئے وہ جواب کی منتظر تھی ۔
میں جنازوں پر کیوں جاتا ہوں ؟ وہ اس لئے کے موت زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے تلخ حقیقت ہے جنازوں پر موت سایہ کئے ہوتی ہے۔میں موت کے پروں کی سرسراہٹ اور زندگی کے درمیان ربط ڈھونڈنے وہاں جاتا ہوں ۔بلکہ یوں کہوں کے میں جنازوں پر موت کو چکھنے جاتا ہوں ۔کیا تم نے کبھی موت کو چکھا؟
اس کا رنگ زرد پڑھ گیا جیسے موت اسے چھو گئی ہو۔ایسی خوفناک باتیں مجھ سے مت کیا کرو ابھی تو میں زندگی جینا چاہتی ہوں اس کے رنگوں کو دیکھنا چاہتی ہوں اس کی مسکراہٹوں میں شریک ہونا چاہتی ہوں ۔کوئی اور بات کرو ۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کے لوگ موت کے ذکر پر اتنا ڈرتے کیوں ہیں اتنی بڑی سچائی سے اس کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے سوچنے لگتا ہے بلی نے اسے نہیں دیکھا۔ہمارا حال اس کبوتر جیسا ہے جو موت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں ،مجھے بتائو ہم اتنا جیتے ہی کیوں ہیں ؟ پچاس ساٹھ سال ہم جیتے ہیں وہ اس لئے ایک روز مر سکیں ۔کتنے غافل لوگ ہیں ہم ۔موت سے آنکھیں چرا چرا کر ہم لوگ اندر سے مرتے جارہے ہیں ہمارے اندر بے حسی پیدا ہو رہی ہے۔جب ہمیں موت کا تصور ہی نہیں ہوتا تو کیسے ہم اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکتے ہیں ۔ہم اچھا ئی اور برائی میں اس وقت فرق محسوس کریں گے جب زندگی کی شراب میں موت کی تلخی کو محسوس کریں گے۔میں جنازوں میں شرکت اس لئے کرتا ہوں تاکے اندر سے زندہ رہوں میں بے حسی کی لاش میں تبدیل نہیں ہونا چاہتا ۔
بس بھی کر دو اب کبھی کبھی مجھے تم سے جنازوں کی بو آنے لگتی ہے وہ جو کافور کی ہوتی۔میں ویسے بھی اچھائی اور برائی سمجھ سکتی ہوں مجھے اپنا فلسفہ موت مت سنایا کرو ۔مجھے یہ والی زندگی جینے دو ،اس کے لہجے میں موت کا خوف بول رہا تھا ۔
ایسا نہیں ہے ہم ابھی سو رہے ہیں اور موت جب ہمیں بیدار کرے گی تب ہماری اصل زندگی شروع ہوگی اور جب تک ہم موت کا تصور نہیں کریں گے تب تک ہم ہمارے اندر احساس مردہ رہے گا موت تو ہمیں یہ بتانے آتی کے زندگی سرکش گھوڑے کی طرح بھاگنے کے لئے نہیں ہے۔
ایک انجام ہے جس کی سمت ہم جارہے ہیں ۔میرا یقین کرو جو موت کو چکھتا نہیں وہ اس کا ذائقہ جلد بھول جاتا اور پھر سرکش ہوجاتا ہے اس لئے موت کو چکھتے رہنا چاہئے اور اس کا ذکر کرتے رہنا چاہئے تاکے ہمارے دل مردہ نہ ہوں اور ہم ہنسی اور غم کے فرق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ہم زندگی کی لذتوں میں کھو کر سب فراموش نہ کر دیں۔ اس لئے ہمارے نبی نے کہا ـ کہ” لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو” میں بس لذتوں کو توڑتا ہوں اسے یاد کرتا ہوں اس کی تلخی کو زبان پر زندہ رکھتا ہوں کیوں کے جلد یا بدیر میرا اس سے سامنہ ہونا ہے کے ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے ۔
میں چلتی ہوں مجھے یونیورسٹی کے لئے دیر ہو رہی تم یہاں بیٹھ کر درختوں کو موت سمجھائو۔اس نے اپنی نازک کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا اور پھر وہ ا ٓگے پیچھے چلتے ہوئے درختوں کے سائے سے باہر نکل آئے ۔وہ سوچنے لگا درخت اس کی باتیں سنتے اور سمجھتے ہوں گے تبھی ان کی شاخوں میں سر سراہٹ
ہوتی رہی تھی۔۔۔وہ مسکریا۔۔ اور انسان کے احساس کے درخت کو بے حسی کی امربیل کھا گئی تھی ۔
——————————————————————————–
شور و غل کرتی ندیاں نشیب کی گہرائیوں میں دفن ہو رہی تھیں اور بلندیوں سے گرتے جھرنے کائنات کا حسین نغمہ بن کر گونج رہے تھے خشکیوں سے ملے سمندر اپنے اندر لاکھوں راز لئے خاموش کھڑے تھے ۔کہیں پر خزاں کی تیز آندھی درختوں سے بال و پر نوچ رہی تھی تو کہیں پر بہار نوخیز کلیوں کو حیات نو کا جام پلا رہی تھی۔کہیں پر موت افق پر بیٹھی قہقے لگا رہی تھی تو کہیں پر زندگی نوخیز بچے کی مسکراہٹ میں مسکرا رہی تھی ۔ماہ و سال اپنے سفر میں میں تھے اور سورج مشرق و مغرب کے چکر لگا لگا کر تھک چکا تھا ۔اور خیام ان سب سے دور اپنی اداسی میں کھویا ہوا تھا ۔کائنات کو کوئی نغمہ اس کی سماعت میں رس نہیں گھولتا تھا۔کوئی حسین منظر اس کی آنکھوں کو خیرہ نہیں کرتا تھا۔کوئی شیریں بول اس کے دل کی تاروں کو نہیں چھیڑتا تھا وہ پہروں خاموش بیٹھا رہتا اتنا خاموش کے بہت کم خود کو مخاطب کرتا۔اور جب اس کی خاموشی تنگ آکر چیخنے چلانے لگتی تو وہ اپنے ارد گرد پڑی کسی کتاب کو اٹھا کر خود کو اس میں غرق کر لیتا۔وہ شہر کا مشہور اداس افسانہ نگار تھا لوگ اسے جذبوں کا ترجمان کہہ کر یاد کرتے تھے۔اس کی تحریریں لوگوں کے جذبات کی آئنہ دار ہوتی تھیں۔اس کے لفظوں کے اداس رنگ افق کی زردی کو زندہ کرتے تھے ۔وہ لفظوں کا بادشاہ تھا اور لفط اس کے غلام۔اس کے افسانے حقیقت کے اس قدر قریب ہوتے کے ان کے سارے کردار سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتے۔لوگ کہتے تھے وہ اداس لوگوں کو اداسی کی غذا فراہم کرتا تھ ہے وہ محفلوں میں بہت کم جاتا تھا بس شام کو جب شہر کی گلیاں سو جاتی اور خواب جاگ اٹھتے وہ باہر گھومنے نکل آتا تھا اور شہر کی تاریک گلیوں میں خوابوں کے ساتھ کسی بے چین روح کی طرح پھرتا رہتا تھا ،۔
سب اس سے ملنے کو بے تاب رہتے تھے پر وہ کبھی کسی کو نہیں ملتا تھا اور با رونق محفلوں سے بہت دور ہتا تاھ
اس کا لکھاری کا یہ شعر ہر محفل میں اس کی نمائندگی کرتا تھا ،
اذیت تنہائی مجھے راس ہے بہت
سو محفلوں میں جانا اچھا نہیں لگتا۔۔!!
وہ کسی نامعلوم خلش کا ڈسا ہوا تھا۔ایک بے نام سے بے چینی اسے بے چین رکھتی تھی۔اسے لگتا وہ کسی راز کی جستجو میں ہے کوئی منزل ہے جس کی اسے تلاش ہے وہ خود کو ادھورا محسوس کرتا تھا سٹور روم میں پڑی اس کرسی کی طرح جس کی ٹانگ بہت پہلے ٹوٹ چکی تھی۔وہ اپنے اندر ایک خالی پن کو محسوس کرتا تھا بلکل ایسے ہی جیسے میز پر پڑھے سافٹ ڈرنک کا وہ خالی ٹین جس میں سے وہ مشروب کا آخری قطرہ تک اپنے اندر انڈیل چکا تھا ۔
جب سورج مغرب میں جھک جاتا تو اس کی بے چینی بڑھ جاتی ۔آج بھی جب دن کا تھکا ہارا سورج مشرق کی گھاٹیوں میں آرام کرنے لیٹا تو وہ بے چین ہونے لگا اس نے کتاب پڑھنے کی کوشش کی پر کتاب کی عبارتیں سانپوں کی طرح پھنکارنے لگیں تو وہ خاموشی سے کھڑکی میں آکھڑا ہوا اور خالی نظروں سے مناظر دیکھنے لگا۔اس کے دل میں یہی سوال گردش کر رہا تھا کے وہ کس راز کی جستجو میں ہے گھڑی کی سوئیاں مسلسل حرکت میں تھیں اور وہ بت بنا کھڑا تھا۔اچانک اسے ریل میں ملے اس بوڑھے کی بات یادا ٓئی جس نے کہا تھا تمہیں محبت کی تلاش ہے تمہیں آج تک محبت نہیں ہوئی یہ وہی خلش جو تمہیں بار بار ڈس رہی ہے۔وہ بوڑھے کے ساتھ ہوئی ملاقات کو یاد کرنے لگا
اب وہ ریلوے سٹیشن میں تھا۔
——————————————————————————-
لکڑی کے چوبی بینچ پر بیٹھا وہ انتظارکو چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا سامنے بیٹھے بوڑھے کی جھریوں زدہ چہرے سے انتظار جھانک رہا تھا۔قلیوں کے شکن زدہ لباس کی لکیروں میں انتظار رقص کر رہا تھا ۔اس کے سامنے کچھ دور بیٹھی لڑکی کے مہندی لگے ہاتھوں سے انتظار کی مہک آرہی تھی اور اس کی آنکھوں میں انتظار جل رہا تھا۔انتظار گاہ کے پھنکے تک ہوا کی جگہ انتظار پھینک رہے تھے موتیے کے پھول بیچنے والا نو عمر لڑکا نہیں جانتا تھا کے اس کے پھولوں سے انتظار کی باس آرہی ہے۔اس نے اس بوڑھی کو بھی دیکھا جو اپنی گھٹری سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی کا انتظار کر رہی تھی اور اس کے سفید بالوں میں انتظار کے کچھ کالے بال اگ آئے تھے۔سپیکر سے آتی آواز گویا انتظار کی آہٹ تھی جسے سنتے ہی سب لوگ چونک جاتے اور پٹریوں پر دور تک اس سمت نظر ڈالتے جہاں ریل اپنے اندر بہت سارا انتظار لئے چلی آتی ۔یہاں ہر طرف انتظار تھا چلتا انتظار ،بیٹھا انتظار ، دوڑتا انتظار، لیٹا انتظار،بولتا انتظار ، خاموش انتظار ۔ریلوے سٹیشن کے چپے چپے پرا نتظار جم سا گیا تھا جیسے ٹھہرے پانی پر کائی جم جاتی ہے ۔وہ سوچنے لگا اگر کوئی انتظار کو مجسم دیکھنا چاہے تو ریلوے سٹیشن وہ بہترین جگہ ہے جہاں انتظار مجسم دیکھا جا سکتا تھا۔
ریل کی پٹریوں پر لرزش ہوئی اور دور سے سیٹی کی آواز نے ریل کے آنے کا اعلان کر دیا لوگوں میں نامعلوم سے بے چینی پیدا ہوئی جب ریل سٹیشن پر رکی تو لوگ بھاگ بھاگ کر اس میں سوار ہونے لگا۔وہ بھی خاموشی سے اٹھا اور ریل میں سوار ہوگیا اب انتظار سارا کا سارا لوگوں کی آنکھوں میں سمٹ آیا تھا ۔منزل پر پہنچ جانے کا انتظار۔کچھ دیر بعد ریل پیچھے رہ جانے والوں کی حسرتوں زدہ سوچوں میں اور لرزتی انتظار زدہ نگاہوں میں پھر سے انگڑائی لیکر بیدا ہوئی اور آہستہ آہستہ سے سٹیشن سے دور ہونے لگی۔لوگو ہاتھ ہلا ہلا کر اپنے پیاروں کو وداع کرنے لگے اور ان کی خالی ہتھیلیوں میں سے انتظار بہنے گا پھر سے ملنے کا انتظار ۔ریل آہستہ آہستہ ان سے دور ہونے لگی ۔اس وقت ان کی حالت اس معصوم بچے کی سی جو باپ سے ضد کر گیسی غبارہ لے اور پھر اچانک وہ اس کے ہاتھ چھوٹ جائے اور وہ بے بسی سے اسے آسما ن کی گہرائیوں میں گم ہوتا دیکھتا رہے ۔جب ریل لوگوں کی نگاہوں سے دور ہوتے ہوتے بلکل گم ہوگئی تو اس نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالی دو بوڑھے جن میں سے ایک مسلسل باتیں کیا جارہا تھا اور دوسرا پوری توجہ سے سن رہا تھا۔ایک جوان جو موبائل میں گم تھا اور نجانے کسے انتظار بھرے سندیسے بھیج رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ دوسری طرف سے ملنے والے پیغام پر مسکرا اٹھتا اور پھر چور نظروں سے اردگرد دیکھتا،جیسے تسلی کرنا چاہتا ہو کے کوئی اور تو اس کے راز میں شریک نہیں ہے ۔ایک بے زار صورت پختہ عمر کا مرد جو ایسے بیٹھا تھا جیسے کسی بھی لمحے ٹرین سے کود جائے گا۔شاید وہ اپنی بیوی سے پریشان تھا جو ہر منٹ کے بعد اجی سنتے ہو کی، آواز کے ساتھ اس سے کوئی نا کوئی بات پوچھنے لگتی۔ٹرین مسلسل بھاگ رہی تھی وہ باہر سے گزرتے مناظر کو دیکھنے لگا،کھیت نہریں ہل چلاتے بیل اور پانی بھرتی عورتوں نجانے کیا کچھ اس کی نظروں سے گزرنے لگا ۔
کچھ دیر بعد ایک بوڑھا اونگھنے لگا اور نوجوان کانوں میں ہینڈ فری ڈالے کوئی گانا سننے لگا اور ساتھ ساتھ ایک ٹانگ کو ہلانے لگا۔بے زار صورت مرد اب بھی لاتعلق بنا بیٹھا ٹرین کی چھت پر کسی ان دیکھی چیز کو گھورے جا رہا تھا ۔
بہت چپ ہو پتر یہ عمر اور اتنی خاموشی تمہارے عمر کے لڑکے تو ناچتے گاتے شور مچاتے پھرتے ہیں ،وہ سب کا جائزہ لے ر ہا تھا جب دوسرا بوڑھا اس سے مخاطب ہوا ۔
میں زیادہ تر خاموش رہتا ہوں مجھے خاموشی سے محبت ہے اور خاموشی ہی بہترن کلام ہے ۔
بوڑھا اس کی بات سن کر مسکریا ۔اور کچھ دیراس کے چہرے کو دیکھنے کے بعد بولا۔کبھی محبت کی ؟
نہیں میں نے کبھی محبت نہیں کی نا ہی کبھی محبت کا ہونا محسوس کیا حالانکہ میری خواہش تھی کے میں محبت کروں ۔
بوڑھے نے اس کی بات سنی اور جیب سے سگریٹ ہونٹوں میں دبا کر ماچس کی تیلی کو ماچس پر رگڑنے لگا اور دوسری کوشش پر تیل کے کنارے پر شعلہ چمکا پر اسے سے پہلے وہ سگریٹ سلگاتا ہوا کے جھونکے نے شعلہ بجھا دیا۔
اس نے ایک نظر بجھتے شعلے اور دھواں اٹھتی تیلی کو دیکھا اور پھر بولنے لگا۔
تو حسن زادہ ہے تیرے چہرہ اور آنکھیں کہتی ہیں تیرے اندر ظاہر کی چمک دمک ہے جس تیرا اندر بہت میلا کر دیا ہے ۔پگلے محبت خدا کے ہاتھوں بنایا ایک شفاف سنہری جام ہے اور یہ جام ایک پاک صاف دل میں ہی ڈالا جاتا ہے ۔جیسے ہم پینے کا پانی صاف برتن میں نکالتے بلکل ویسے ہی محبت کا جام پینے لئے دل کا برتن صاف ہونا بہت ضروری ہے اور تیرا دل بہت میلا ہے اسے صاف کر ۔اگر محبت کرنا چاہتا ہے تو دل کی میل کو صاف شفاف کر اور اپنے اندر حسن پرستی کو جگہ نہ دے۔بوڑھے نے پھر سگریٹ سلگانے کی کوشش کی اور اس بار کامیاب ہوگیا ۔دو تین لمبے کش لگائے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا
اس کو صاف کر ا س برتن کو خالی کر ساری بیمار خواہشات نکال دے ۔دل کے آئنے پر حسن پرستی کی دھول جمی ہے اس جھاڑ پھر دیکھ تمہیں محبت کا عکس وہاں صاف نظر آنے لگے گا۔
مجھے ایک اور بات بتانی ہے،ساتھ والا بوڑھا نیند میں بڑبڑیا۔
آپ ان کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے ۔اس نے بوڑھے کی باتوں میں سچائی محسوس کرتے ہوئے بات بدلی ۔
اس نے ایک نظر ساتھ لیٹے بوڑھے کو دیکھا اور بولا
کان خدا کی نعمت ہیں ان کا صدقہ ادا کر رہا تھا اگر میرے سننے سے کسی کو خوشی ملے تو یہ بھی صدقہ ہے ۔ہماری زندگی میں ویسے بھی سب اپنی کہتے ہیں کسی کی کوئی نہیں سنتا ناکوشش کرتا ۔
وہ چپ رہا۔کچھ دیر یونہی گزری تب بوڑھا پھر سے بولا۔
میں آگے اتر جائوں گا پر تو دل کو صاف کر بیٹے ۔اس نے سگریٹ کا ایک طویل کش لیا اور دھواں فضا میں چھوڑا،پھر شاید اس دھوئیں میں محبت کے پراسرار معبد کا کوئی بچاری گزرا جس نے اس بوڑھے کے کان میں سرگوشی کی تبھی وہ کہنے لگا ۔
تجھے جلد محبت ہونے والی بہت جلد تو پاک ہونے ولا ہے ۔
گاڑی کے ہارن پر وہ چونکا۔وہ ابھی تک کھڑکی میں کھڑا تھا اور اس کے کانوں میں بوڑھے کی آواز گونج رہی تھی،تجھے جلد محبت ہونے والی ہے تو جلد پاک ہونے والا ہے اس نے سر جھٹکا اور سوچنے لگا پتا نہیں ب اسے محبت ہوگی۔
وہ محبت کی آگ کی واقف نہیں تھا اسے معلوم نہیں تھا کے محبت ایک بھٹی ہے جس میں دن رات جل کر پھر سونا بنا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر کا پتھر رہ جاتا انسان۔اور محبت کہیں دور خلاء میں بیٹھی اس پر مسکرا رہی تھی ۔
——————————————————————— –
آیت حیرانگی سے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ رہی تھی جو شہر کا اداس اور پراسرار لکھاری تھا اور پچھلے تین ماہ سے ہزار منتوں کے بعد ملاقات کے لئے راضی ہوا تھا ۔۔گھنے بکھرے بال۔۔ گہری اداس آنکھیں اور کھوئے کھوئے سے نین و نقش والا چہرہ۔۔ وہ اس کے تصور سے بلکل الٹ تھا نہ آنکھوں پر کوئی موٹہ سا چشمہ نہ ہی وہ عمر رسیدہ تھا ۔وہ اس سے کچھ سال ہی بڑا تھا۔۔ ابھی وہ اس کا جائزہ ہی لے رہی تھی جب وہ دھیمے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
آپ مجھے سے کیوں ملنا چاہتی تھیں۔۔ میں حیران ہوتا ہوں لوگ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ میں تو خود کو بھی کبھی ملنا نہیں چاہتا اور نہ مجھے خود میں اتنی دلچسپی ہے ۔۔ پھر لوگ کیوں آخر ۔۔۔؟؟
۔
میں آپ کی تحریروں سے بہت متاثر ہوں احساسات سے گندھی آپ کی اداس کہانیوں نے مجھے مجبور کر دیا کے میں آپ سے ملوں اور اس کی وجہ جانوں۔۔میں سوچتی ہوں کوئی اتنا اداس کیسے رہ سکتا ہے کوئی اتنی زیادہ اداسی کو کیسے جھیل سکتا ہے آخر اتنی اداسی کہاں سے آتی آپ کے پاس۔۔ مجھے لگا تھا آپ بوڑھے ہوں گے پر آپ تو مجھ سے چند برس ہی بڑے ہیں اس کم عمری میں اتنی اداسی کیوں؟
۔
میں بوڑھا ہی ہوں میری روح کے پاؤں زمانوں کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں ۔۔میں ہسپتال میں جس دن پیدا ہوا اسی دن وہاں ایک بوڑھا فوت ہوا مجھے یقین ہے اس بوڑھے کی روح اس کے جسم سے نکل کر میرے جسم میں گھس گئی تھی۔ پہلے مجھے یقین نہیں تھا پر وہ بوڑھا جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا ایک دن میرے خواب میں آیا اس کے چہرے پر بہت ساری جھریاں تھیں اس نے مجھے بتایا کے وہ مجھ میں رہتا ہے۔
۔
بوڑھے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے چہرے پر کچھ جھریاں نمودار ہوئیں تھیں اور آیت کو لگا سامنے وہ نوجوان نہیں ایک بوڑھا بیٹھا ہے اس نے سر جھٹکا اس کو وہم ہونے لگا تھا شاید ۔۔
اور یہ اداسی کیوں اور کس لئے ہر کہانی ہر افسانہ اداسی سے بھرا ہوا مجھے لگتا اگر آپ کے افسانوں پر مشتمل کتابوں کو نچوڑا جائے تو ڈھیر ساری اداسی نکلے ۔۔زندگی میں اور کہی رنگ ہیں ۔۔۔
۔
بہت سی اداسیاں بے سبب ہوتی ہیں اور بہت ساری اداسیوں کے اسباب ہوتے ہیں۔اداسی انسان کے اندر اگتی ہے یہ دیمک کی طرح آپ کو آہستہ آہستہ کھاتی جیسے امر بیل تناور درخت کو کھا کر کھوکھلا کر دیتی ویسے یہ اداسی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتی محرومیاں اس اداسی کا بیج ہوتیں ہیں لیکن میری اداسی خودرو گھاس کی طرح ہے جو میری ذات میں بلاوجہ اگتی رہتی ہے میں اس اداسی کی فصل کو جتنا کاٹتا ہوں یہ اتنی تیزی نشوونما پاتی ہے۔اس اداسی کا رنگ بڑا پائیدار ہوتا ایک بار چڑھ جائے کبھی نہیں اترتا باقی کوئی بھی رنگ ہو دیرپا، نہیں ہوتا اتر جاتا مجھے لگتا اداسی کا رنگ سفید ہوتا جس میں کچھ رنگ اور ڈال کر کوئی نیا رنگ تخلیق کیا جاسکتا ہے پر ہزاروں رنگ مل کر اداسی کا سفید رنگ نہیں بنا سکتے اداسی کا رنگ کسی قسم کے کھوٹ سے پاک ہوتا۔
۔
وہ جیسے اداسی میں کہیں دور کھو گیا تھا اور آیت کو لگا کیفے میں ہر سو اداسی اگنے لگی ہے۔۔چہروں پر ۔۔ٹیبلوں کرسیوں اور کھڑکیوں پر ۔۔اور تو اور لوگوں کی آوازوں میں بھی اداسی اگ رہی تھی۔۔ہر رنگ جیسے پھیکا پڑ گیا تھا کھڑکی سے باہر دوڑتی گاڑیوں اور ساکت عمارتوں پر بھی اداسی کا رنگ چڑھنے لگا تھا۔وہ گھبرا گئی تھی۔۔ سامنے بیٹھا وہ شخص اسے بچپن میں پڑھی گئی بھوتوں والی کہانیوں کا کوئی کردار لگا تھا۔
کیا تم اداسی کی کوئی تعریف کر سکتے ہو؟جس میں سمجھ پائوں کے اداسی کیسی ہوتی ہو ۔اس نے اپنے اردگرد پھیلتی اداسی سے آنکھیں چراتے ہوئے سوال پوچھا ۔
نہیں اداسی کی کوئی تعریف نہیں ممکن ۔ اداسی کو سمجھنے کے لئے اپنے اندر اداسی کو اتارنا پڑھتا ہے اداسی کو روح سے چھونا پڑھتا ہے۔اداسی ایک ذائقہ ہے۔اب کوئی کڑواہٹ کی بھلا کیا تعریف کرے گا کڑواہٹ بس کڑوی ہوتی اس طرح اداسی بس اداسی ہوتی ۔غمزدہ روحوں کی غذا۔
ٓاس نے چائے کا گھونٹ لیااور محسوس کرنے لگی کی چائے میں اداسی کا ذائقہ کس قدر ہے ۔کیا تم ہنستے ہوَ۔اس نے اس کے چہرے پر پھیلی سنجیدگی کو دیکھتے پھر سوال کیا۔
بہت پہلے کی بات ہے جب ہم ہنسا کرتے تھے شاید میرے میرے بچپن کی ہم پہلی جماعت کی کتابوں میں موجود لطیفے ایک دوسرے کو سنا سنا کر ہنسا کرتے تھے اور کبھی کبھی بلا وجہ ہی ہنسے لگتے وہ بے وجہ سی ہنسی سب سے اچھی اور خوبصورت ہوا کرتی تھی آج بھی میں کبھی ہنستا ہو لیکن بچپن کی مسکراہٹ میں ہمارے دل شامل ہو ا کرتے تھے اور آج ہماری مسکراہٹوں میں دل شامل نہیں ہوتے ،وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے جاتے بولا ۔
جس قہقے میں دل شامل نہیں ہوگا
اسے میں روح کی چیخ لکھوں گا ۔۔!
اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کے ہم ہنستے ہیں یا چیختے ہیں ۔
———————————————————————————————————–
اس دن وہ بے زاری سے ڈاک میں آئے خطوط پڑھ رہا تھا جب اس کی انگلیوں نے دوبارہ انتظار اور شوق بھرا خط محسوس کیا۔اس نے خط کو چاک کیا ،اور بھجنے والے کا نام پڑھا آیت چوہدری
وہ پچھلے کئی ماہ سے اسے خط لکھ رہی تھی اور ہر بار خط کے آخر میں ملنے کی التجا ہوتی۔وہ خط ہاتھ میں پکڑے اس کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کے وہ اس خط کا کیا جواب دے پھر کچھ سوچ کر اس نے جیب سے موبائل نکالا اور خط کے آخر میں لکھے گئے نمبر پر ایک پیغام بھیج دیا ۔وہ اس سے ملنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا اس مستقبل مزاج لڑکی میں آخر کیا بات ہے۔
اور اب جب وہ اس لڑکی سے مل کر واپس آرہا تھا بہت بے زار سا تھا۔اس میں میں کوئی بھی ایسی خاص بات نہیں تھی عام سے نین و نقش والی ایک عام سی لڑکی ۔وہ جھیل کی سطح میں ڈوبنے والے چاند کی طرح حسین ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا اس نے دل ہی دل میں سوچا۔اسے وہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے نظر آنے والی وہ بند کھڑکی لگی تھی جو سامنے والے فلیٹ کی تھی جس میں سالوں سے کوئی نہیں رہتا تھا بے رنگ سی۔ واپسی میں اسے کوئی بھی منظر پسند نہیں آیا تھا سوائے کروڑوں کی لاگت سے تیار ہونے والے پلازے کے سامنے بیٹھے بھیگ مانگنے والے اس لڑکے کے جس کی ٹانگیں نہیں تھیں اور وہ ہر راہ چلتے انسان کو دیکھ کر صدا بلند کرتا اور اپنی غربت اور دکھ کا قصہ سنا تا۔جب وہ اپنے فلیٹ کے دروازے پر کھڑا جیب میں چابی تلاش کر رہا تھا تو ساتھ والے فلیٹ میں سے اس لڑکی کی رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی جس کا شوہر نشہ کرتا تھا۔اسے اپنے فلیٹ کے راستے میں کھڑی خوابوں کی تلاش والی لڑکی یاد آگئی جو کل شب اس سے اپنے خوابوں کے متعلق پوچھ رہی تھی۔کوریڈور میں اب اس لڑکی کی سسکیاں ننگے پائوں پھر رہی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا پھر کبھی کسی کو نہیں ملنے جائے گا کم از کم اس لڑکی کو نہیں جو بے تحاشا سوال کرتی تھی،۔ْ
—————————————————————————————————————-
زندگی کی یکسانیت جب وحشت میں ڈھلنے لگتی تو وہ پروفیسر احمد کے پاس چلا آتا اور ان کی صحبت میں علم و دانش کی چند سانسیں لیتا۔۔ ان کی باتیں اس کی روح کی غذا کا کام کرتیں اور وہ زندگی کی دوڑ میں سے نکل کر چند پرسکون لمحوں سے لطف اندوز ہوتا۔
اس نے دوبارہ آیت کو چند دنوں کے بعد دیکھا تھا۔ یہ دسمبر کی ایک دوپہر تھی اور سورج کی کرنیں سردی سے مقابلے کی لاحاصل کوشش میں مصروف تھیں۔ اسے زندگی کی کچھ مشکل گرہیں کھولنے کی جستجو ہوئی اور وہ پروفیسر احمد سے ملنے چلا آیا۔۔وہ ہمیشہ کی طرح پرتپاک انداز میں ملے۔۔ابھی اسے بیٹھے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ وہ وہاں آن پہنچی۔ ان دونوں نے ہی ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر انجان بن گئے جیسے ایک دوسرے کو جانتے ہی نا ہوں ۔۔پروفیسر احمد نے ان دونوں کا تعارف کروایا تو پتا چلا اس کا نام آیت ہے اور وہ اسلامک لاء کی سٹوڈنٹ ہے۔
وہ پروفیسر کے سامنے بیٹھی اب کچھ سوچ رہی تھی اور خیام چپ چاپ اس کے چہرے کو تکے جارہا تھا۔۔
سر ہماری چاہ ہمیں کیوں نہیں ملتی اور ہماری محبتیں کیوں دور چلی جاتی ہیں وہ ہمیں کیوں نہیں ملتا جس کی ہمیں بہت ضروت ہوتی ہے ؟؟
اس کے یاقوتی لب لرزے تھے۔۔
پروفیسر مسکرائے اور کہنے لگے۔۔
جب ہمارے دل میں کسی کو پانی کی چاہ اور تڑپ جاگتی ہے تو اس چیز کا حصول مشکل ہوجاتا ہے ۔۔ اگر راستے میں پڑا پتھر بھی آپ کے لئے اہمیت اختیار کر جائے تو وہ بھی آپ کو آسانی سے نہیں ملتا۔۔اس میں بھی رکاوٹیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے ۔اہمیت اس پتھر کی نہیں ہوتی اہمیت اس تڑپ اور چاہ کی ہوتی ہے جو آپ کے سینے میں پل رہی ہوتی ہے ۔۔چاہ کا حصول بڑا کھٹن ہوتا ہے ہزاروں ٹھوکروں اور مصیبتوں کے بعد بھی اکثر ہمیں چاہ نہیں ملتی۔۔ یہ بات تو پتھر کی ہے ۔تو اگر ہماری چاہ ایک زندہ سلامت سانس لیتا انسان ہو تو ہم کیسے تصور کر سکتے ہیں وہ ہمیں یونہی مل جائے گا۔۔نہیں نہیں کسی کو پانے کے لئے کچھ نہیں بہت کچھ کھونا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو اپنا آپ بھی۔
وہ پورے انہماک سے سے پرفیسر کی باتیں سن رہی تھی۔۔پروفیسر نے بات ختم کی تو اس کی جھیل جیسی سیاہ آنکھوں کی کچھ لہریں یوں جنم لے رہی تھیں جیسے پہاڑیوں میں گری جھیل کے شفاف سطح پر ہوا کے دباؤ سے کچھ بے معنی دائرے رقص کرتے ہوں۔
یعنی قدرت نہیں چاہتی کے ہمیں ہماری چاہ ملے اور ہماری زندگی میں بھی خوشی اور راحت مسکرائے۔ ہم نا تمام خواہشوں کی خلش سے آزاد ہوکر زندگی کے حسن کو محسوس کر سکیں اس کی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ۔۔کیا قدرت ظالم نہیں جو امیدوں اور خواہشوں کا گلا بے رحمی سے گھونٹ دیتی ہے ۔ ہمیں اپنی چاہ سے دور کر کے جینے پر مجبور کرتی ہے۔۔اس نے پرسوچ نظروں سے پروفیسر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
۔
قدرت کے اکثر فیصلے ہمارے حق میں ہوتے ہیں وہ علحدہ بات ہے کے ہم ان کو سمجھ نہیں پاتے یا سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہماری سوچ اس وقت بہت محدود ہو جاتی ہے۔ ہماری عقل ایک دائرے میں قید ہو جاتی ھے وہ دائرہ ہماری چاہ کا ہوتا ہے اور ہم اس دائرے سے باہر نکل کر کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتے۔۔ ہم دیکھتے ہیں تو بس اپنی چاہ کو اور محبت کو ہمارے سامنے ہماری چاہ کی خوشنمائی ہوتی ہے
۔یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے کسی بچے کے سامنے آگ کا شعلہ روشن ہو تو وہ اس شعلے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اگر وہ شعلہ اس بچے سے دور کر دیا جائے تو بھی وہ اس کے پیچھے لپکتا ہے ۔۔۔کیوں کے شعلے کی چمک بڑی خوبصورت ہوتی ہے۔۔آپ اس بچے کو جتنا بھی سمجھائیں کے آگ جلاتی ہے پر وہ نہیں سمجھے گا کیوں کے اس کے سامنے بس آگ کی خوبصورتی ہوتی ہے اس کی تپش سے وہ بلکل انجان ہوتا ہے ۔۔تو ہماری چاہ ہمیں اس بچے کی طرح بنا دیتی ہے ہم بار بار اپنی چاہ کی طرف بھاگتے ہیں کیوں کے ہمارے سامنے اپنی چاہ کی دلفرریبی ہوتی ہے اور ہمیں اس کی ہلاکت خیزی نظر نہیں آتی یا نظر آئے بھی تو ہم اسے دیکھنا نہیں چاہتے۔۔تو بیٹی جس طرح ہم بچے سے آگ دور کر دیتے ہیں کہ ہمیں اس بچے سے محبت ہوتی ہے اور ہم نہیں چاہتے کے وہ جل جائے اور پھر سمجھے اسی طرح ہمارا اللہ نہیں چاہتا کے ہماری چاہ ہمیں اذیت اور دکھ دے۔۔اس قدرت کا بنانے والا تو سب دیکھ رہا ہوتا ہے وہ جانتا ہے اس کی کے بندے کے لئے کیا ٹھیک ہے کیا غلط جیسے اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ۔ ” ہو سکتا ہے کوئی چیز تمہیں پسند ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر نہ ہو اور جو تمہیں ناگوار ہو وہ تمہارے لئے بہتر ہو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ــ ” اور میری بچی وہی اللہ ایک قانون چاہتوں کے پانے کا بتا ہی چکا کے تم خود کو میری چاہت میں ڈھال دو تو میں تمہیں تمہاری چاہت سے ملوا دوں گا۔۔اور یہ وہ بتا نہیں رہا اپنا فیصلہ سنا رہا ہے اور بے شک اللہ سے بڑھ کر کون اپنے فیصلوں میں سچا ہے۔۔
پروفیسر نے اپنی بات ختم کی تو اسے لگا شاید وہ مطمئن ہو چکی ہوگی پر نہیں اس کی پیشانی پر کچھ سوالوں کی سلوٹیں اب بھی باقی تھیں.
وہ کچھ دیر یونہی خاموش رہی شاید وہ پھر سے کوئی سوال سوچ رہی تھی وہ اور پرفیسر دونوں ہی اس کے اگلے سوال کے منتظر تھے۔لیکن اس نے کوئی نیا سوال نہیں کیا وہ سوچنے لگا اس نے اگلی ملاقات تک کے لئے اپنے سوال بچا لئے تھے۔
پھر اس نے جانے کی جازت طلب کی اور ایک نگاہ اس پر ڈال کر باہر نکل گئی۔
تمہارا کیسے آنا ہوا ہماری طرف برخودار۔اس کے جاتے ہی پرفیسر اس سے مخاطب ہوئے۔
ویسے ہی سر کچھ پل آپ کے ساتھ گزانا چاہتا تھا اس لئے چلا آیا۔آج تو کافی دقیق گفتگو سننے کو ملی مجھے ۔
پرفیسر ہنسے اور گویا ہوئے۔،
یہ جو لڑکی ہے نا آیت۔ہمیشہ سوالوں میں الجھی سی رہتی ہے اسلامک لاء کی سٹوڈنٹ ہے کبھی کبھی تو یہ ایسے سوال کر جاتی ہے کے میری بوڑھی عقل کی انگلیاں ان مشکل سوالوں کی گرہ کھولنے سے عاجز آجاتی ہیں ۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا پروفیسر سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا پھر اٹھ آیا۔باہر نکلتے ہی وہ اسے بس سٹینڈ پر کھڑی دکھائی دی اور وہ نا چاہتے ہوئی بھی اس کی سمت بڑ نے لگا ۔
جب وہ اس کے پاس رکا تو وہ ہلکے سے مسکرائی۔
ویسے تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے اتنی اجنبیت دیکھ کر حیرت ہوئی مجھے ابھی اس دن کی ملاقات پر زمانے نے اتنی گرد بھی نہیں ڈالی ہوگی کے تم مجھے بھول جائو۔
ایسی بات نہیں ہے میں وہاں شناسائی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے بس ایسا ظاہر کیا اور ویسے بھی بھی ہم شناسا کب ہیں ۔؟
شناسا،،اس نے زیرلب لفظ دہرایا۔شناسا تو یہاں کوئی بھی نہیں ہوتا ہے سب ہی اجنبی ہوتے ہیں میری تو بات ہی الگ ہے کے میں اپنی زندگی میں کم ہی شناسائی پالتا ہوں میں تو اپنے آپ کے لئے ایک اجنبی کی طرح ہوں۔
اس نے سڑک پر نگاہ ڈالی اور کہنے لگی،
ہمیں کبھی نہ کبھی کسی دوسرے کی ضرورت پڑھ ہی جاتی ہے اکیلا انسان قبر میں ہی اچھا ہوتا ہے۔
وہ اس سے کچھ دیر مزید بات کرنا چاہتا تھا پر اس کی بس سٹیشن پر آرکی تھی۔
پھر ملتے ہیں کسی اور جگہ کسی اور انداز میں ،وہ ہنسا۔امید کرتا ہوں اگلی بار تمہاری آنکھوں اپنے لئے شناسائی کی چمک کو دیکھوں گا۔
ہاں کیوں نہیں ہم پھر ملیں گے کسی اور جگہ کسی اور انداز میں وہ بھی ساتھ ہنسی اور بس میں سوار ہوگئی۔وہ وہاں تب تک کھڑا رہا جب تک بس اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی اس کے بعد میں وہ تنہائی کی چادر اوڑھے اپنے فلیٹ کی سمت چلنے لگا جہاں وہ اور تنہائی اکھٹے رہتے تھے (جاری ہے)
[button color=”orange” size=”medium” link=”http://” icon=”” target=”false”]تحریر :ابن عبداللہ[/button]



