منتخب غزلیں

تو نے چھیڑا تو یہ کچھ اور بکھر جائے گی زندگی زلف…

تو نے چھیڑا تو یہ کچھ اور بکھر جائے گی
زندگی زلف نہیں ہے کہ سنور جائے گی

خون تاروں کا جو ہو گا تو شفق پھوٹے گی
سُرخئ خُوں سے سحر اور نکھر جائے گی

تھک کے بیٹھا ہوں میں سایوں کے گھنے جنگل میں
سوچتا ہوں کہ ہر اک راہ کدھر جائے گی

یہ الگ بات کہ دن میرے مقدّر میں نہ ہو
رات پھر رات ہے آخر کو گزر جائے گی

میرا سرمایہ تری یاد ہے اے جانِ غزل
تجھ کو بھولا تو مری شاعری مر جائے گی

چشمِ برہم سے میں خائف تو نہیں ہوں آذر
یہ وہ ندی ہے جو چڑھتے ہی اُتر جائے گی

(اعزاز احمد آذر)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/