منتخب غزلیں

شفیق خلؔش . کم سِتم اُن پہ جب شباب آیا ذوق و شوق ا…

شفیق خلؔش
.
کم سِتم اُن پہ جب شباب آیا
ذوق و شوق اپنے پر عتاب آیا

کیا کہیں کم نہ کچھ عذاب آیا
درمیاں جب سے ہے حجاب آیا

تب سِتم اُن کے کب شمُار میں تھے
پیار جب اُن پہ بے حساب آیا

منتظر ہم تھے گفتگو کے ، مگر
ساتھ لے کر وہ اجتناب آیا

خُونِ دل سے لکھا جو مَیں نے اُسے!
مثبت اُس کا کہاں جواب آیا

خواہشِ دِل لئے تھا نامہ مِرا
التفات اُس سے کیا، عذاب آیا

دل سے مجبُور ہو کے در پہ اُسی
آج پھر آدمی خراب آیا

لا تعلّق ہُوا وہ تب ہی خلش!
لب پہ جب اُس کے! جی، جناب آیا
.
شفیق خلؔش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/