منتخب غزلیں
لِیا ہے خاک میں خُود کو مِلا ، ملا نہیں کچھ یہ ک…
لِیا ہے خاک میں خُود کو مِلا ، ملا نہیں کچھ
یہ کارِ زیست عَبث ہے ، یہاں رکھا نہیں کچھ
یہ گِرد بادِ حوادث ہے ، کِس کو چھوڑتی ہے
یہ تُند سیلِ زمانہ ہے، دیکھتا نہیں کچھ
تمام عُمر خموشی کے بعد، حاصلِ عُمر
کہا تو ہم نے، کسی نے مگر سُنا نہیں کچھ
خورشیدؔ رضوی




