منتخب غزلیں
کلام ۔ احمد فراز کتاب ۔ کلیاتِ احمد فراز ( شہرِ س…

کلام ۔ احمد فراز
کتاب ۔ کلیاتِ احمد فراز ( شہرِ سخن آراستہ ہے )
سپردگی شاخِ گُل کی ، وحشت غزال کی ہو
جو اس طرح ہو تو دوستی پھر کمال کی ہو
ہجومِ اہلِ طلب ستادہ تھا جب وہ گزرا
مگر کسی نے جو عرضِ غم کی مجال کی ہو
کوئی تو ایسا ہو جس پر اس کا گمان گزرے
کہیں کہیں تو مشابہت خدّ و خال کی ہو
وہ چند سانسوں کے واسطے کیوں اَنا کو بیچے
کہ عمر بھر جس نے زندگی پائمال کی ہو
میری زمیں پستیوں سے مجھ کو پکارتی ہے
کوئی بشارت میرے خدا اب زوال کی ہو
ہے کون اپنی طرح کہ جس نے غمِ جہاں کے
ستم بھی جھیلے ہوں عاشقی بھی کمال کی ہو
غزل کہی تو لہو بدن سے نچڑ گیا ہے
کہ جیسے صحراےٓ مرگ ، وادی خیال کی ہو
فرازؔ زندہ ہوں اب تلک میں تو شدّتوں سے
کہ مر نہ جاوٓں جو زندگی اعتدال کی ہو
بشکریہ ضیاء علی مغل


