مختصر کہانیاں

#hamidnaved حاصل (عمیرہ احمد) قسط نمر 1 "ایکسکیو…

#hamidnaved
حاصل (عمیرہ احمد)
قسط نمر 1

"ایکسکیوزمی سسٹر!” روش پر دھیمے قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی وہ گروپ میں سب سے پیچھے تھی، جب اس نے بینچ پر بیٹھے ہوئے اس لڑکے کو اچانک اٹھ کر سسٹر الزبتھ کی طرف بڑھتے اور انھیں روکتے دیکھا تھا-
مجھے آپ سے بات کرنی ہے، میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں- اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہو گا-
بھیگے لہجے میں کہے گئے اس بلند جملے نے پورے گروپ کو رک جانے پر مجبور کر دیا تھا- وہ بھی باقی سب کی طرح اس کا چہرہ دیکھنے لگی تھی-
وہ سفید شرٹ اور سیاہ جینز میں ملبوس سترہ اٹھارہ سال کا ایک دراز قد لڑکا تھا- اس کے سیاہ چمکیلے بال بے ترتیب تھے- شاید اس نے دو تین دن سے شیو بھی نہیں کی تھی- اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں، پلکیں ابھی تک بھیگی ہوئی تھیں- شاید وہ اس بینچ پر کچھ دیر پہلے تک بیٹھا رو رہا تھا- اس کی صاف رنگت کی وجہ سے آنکھوں کے گرد پڑے ہوئے حلقے بہت نمایاں نظر آ رہے تھے-
اس نے چند لمحوں میں ہی اس کے پورے سراپا کا جائزہ لے لیا تھا-
"یور نیم(آپ کا نام )؟” سسٹر الزبتھ نے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا تھا-
"محمد حدید-” اس کے جواب پر ایک لمحے کے لئے اس کا سانس رک گیا تھا-
سسٹر الزبتھ نے بے اختیار مڑ کر اس کو دیکھا تھا- چند سیکنڈ کے لیے دونوں کی نظرین ملی تھیں-
"میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہ سکتی-”
سسٹر الزبتھ یک دم محتاط ہو گئی تھیں- اس کی آواز قدرے مدھم ہو گئی تھی-
"آپ کو فادر سے بات کرنا چاہیے-”
انھوں نے اس سے کہا تھا-
"اس کے لیے مجھے کہاں جانا چاہیے-”
اس نوجوان کے چہرے کے اضطراب میں اضافہ ہو گیا تھا- سسٹر الزبتھ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر چند قدم آگے بڑھ کر اس نوجوان کو ایک طرف لے گئی تھیں، کچھ دیر وہ دونوں وہاں باتیں کرتے رہے تھے- پھر اس نوجوان نے اپنا والٹ نکال کر سسٹر کو ایک پن اور کارڈ دیا تھا- سسٹر نے کارڈ کی پشت پر کچھ لکھ کر اسے پکڑا دیا تھا- وہ کسی ڈمی کی طرح سب کچھ دیکھتی رہی تھی-
"اسے کیا چاہیے ہو گا جس کی طلب اسے———”
اس نے اسے دیکھتے ہوئے سوچنے اور بوجھنے کی کوشش کی تھی- گلے میں پڑی ہوئی سونے کی چین جو اس کے کھلے گریبان سے جھلک رہی تھی اور ہاتھ میں باندھی ہوئی کرسچن ڈائر کی گھڑی اسے کسی معمولی گھرانے کا فرد بھی ظاہر نہیں کر رہے تھے اور اگر روپیہ پاس ہے اور روپیہ کمانے کے لیے کسی باہر کے ملک کے ویزے، وہاں سیاسی پناہ اور پھر نیشنیلٹی کی بھی ضرورت نہیں تو پھر یہ، یہ سب کیوں کرنا چاہتا ہے-”
وہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی- چند منٹوں بعد اس نے اس نوجوان کو والٹ جیب میں ڈال کر واپس اسی بینچ کی طرف جاتے دیکھا تھا اور سسٹر الزبتھ کو اپنی جانب آتے دیکھا تھا- ان کی واپسی پر کسی نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا، روش پر پھر پہلے کی طرح سب کی چہل قدمی شروع ہو گئی تھی مگر وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی- ان لوگوں کے ساتھ چلتے ہو ئے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا- وہ لڑکا اب بھی اسی بینچ پر بینچ کی پشت سے ٹیک لگائے چہرہ ڈھانپے بیٹھا ہوا تھا- بے اختیار اس کا دل بھاگ کر اس کے پاس جانے کو چاہا- صرف ایک لمحے کے لیے صرف ایک بات کہنے کے لیے-
اس نے مڑ کر اپنے آگے چلتے ہوئے گروپ کو دیکھا تھا اور خود کو بے بس پایا تھا- وہ پیچھے جانا چاہتی تھی، واپس وہیں مگر وہ آگے چلتی جا رہی تھی- اسے پتا تھا یہ روش سیدھا اس پارک سے باہر لے جائے گی- وہ واپس وہاں نہیں آ سکے گی- اسے جو بھی کرنا تھا بہت جلدی میں کرنا تھا مگر اسے آخر کیا کرنا تھا-
روش پر چلتے چلتے وہ گھاس پر چلنے لگی تھی، بڑے نہ محسوس طریقے سے اس نے اپنا جوتا اتار دیا تھا اور پھر اسی طرح سب لوگوں کے ساتھ چلتی رہی- ایک بار پھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا- بہت دور بینچ پر اب وہ ایک نقطے کی صورت میں نظر آ رہا تھا- مگر وہ وہاں تھا- وہ لوگ گیٹ کے پاس پہنچ گئے تھے-
"اوہ گاڈ سسٹر! میں اپنا جوتا وہیں گھاس پر بھول آئی، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میں ننگے پاؤں چل رہی تھی-” اس نے سسٹر الزبتھ سے کہا تھا-
"کہاں اتارا تھا؟” سسٹر نے کچھ تشویش سے دیکھا تھا-
"مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ اس درخت کے پاس جو جھاڑی نظر آ رہی ہے وہیں سے گذرتے گذرتے میں نے جوتا اتارا تھا- میرا خیال تھا ہم واپس ادھر سے ہی گزریں گے تو میں جوتا پہن لوں گی مگر پھر آپ نے اس گیٹ سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا- میں بس پانچ منٹ میں لے کر آتی ہوں-” اس نے چلتے ہوئے کہا تھا-
وہ واپس مڑ گئی تھی- روش پر چلنے کے بجائے اس نے گھاس پر بھاگنا شروع کر دیا تھا- وہ جلد از جلد اس کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی- چند منٹ بھاگنے کے بعد اس نے سر اٹھا کر اس نظر آنے والے بینچ کو دیکھا تھا جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا مگر اب وہ بینچ خالی نظر آ رہا تھا- اسے بے اختیار ٹھوکر لگی تھی- اس بینچ کے قریبی بینچ بھی خالی نظر آ رہے تھے- وہ بے اختیار آگے بھاگتی چلی گئی- اس نے پارک کی روشوں پر چلتے لوگوں میں اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اسے نظر نہیں آیا تھا-
اس نے بے اختیار بھاگ کر گیٹ سے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی، اس کی چادر کا ایک کونا گیٹ میں اٹک گیا تھا- وہ اسے چھڑانے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی، ننگے سر اور ننگے پیر بھاگتی ہوئی وہ گیٹ پار کر کے باہر نکل گئی تھی- گاڑی تب تک ایک زناٹے کے ساتھ ٹرن کر کے سڑک پر پہنچ چکی تھی- جب تک وہ سڑک پر پہنچتی، تب تک کار اس کی پہنچ سے بہت دور ہو چکی تھی-
اس نے بے بسی سے دور جاتی ہوئی کار کو دیکھا تھا- پھر ایک ٹھنڈک سی اس کے جسم میں اترتی گئی تھی- پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ گیٹ کے باہر اور اندر جانے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے- اسے ان نظروں کی پرواہ نہیں تھی- اسے اس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں تھی- گیٹ کے قریب آتے ہی اس نے چوکیدار کے ہاتھ میں اپنی چادر دیکھ لی تھی- اس نے اسے دیکھ کر چادر اس کی طرف بڑھا دی تھی، ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے چادر لے کر اوڑھ لی تھی-
"کیا بات ہے بی بی؟”کیا ہوا ہے؟”
چوکیدار متجسس تھا- اس نے جواب نہیں دیا تھا، چپ چاپ اندر چلی گئی تھی- روش سے گھاس پر اتر کر اس نے مطلوبہ جگہ جوتا تلاش کرنے کی کوشش کی تھی- اسے جوتا نہیں ملا یا تو وہ جگہ بھول چکی تھی یا پھر کوئی جوتا اٹھا چکا تھا- چند منٹ وہ گھاس پر بے دلی سے جوتا ڈھونڈتی رہی پھر واپس اس گیٹ کی طرف چل دی جہاں سسٹرز اس کا انتظار کر رہی تھیں-
گھاس پر چلتے چلتے اس نے اپنے پیر میں کوئی چیز چھبتی محسوس کی تھی- وہ رک گئی تھی- اس نے پیر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تھی- اسے اندازہ نہیں ہوا کہ پاؤں میں کیا چبھا تھا- اب وہ گھاس سے ہٹ کر روش پر چلنے لگی تھی-
"تم نے پریشان کر دیا، اتنی دیر؟ میں تو ڈر گئی تھی ابھی تمھارے پیچھے آنے والی تھی-” سسٹر الزبتھ نے اسے دیکھتے ہی کہا تھا- تبھی ان کی نظر اس کے پیروں پر پر تھی-
"کیا ہوا؟ جوتا نہیں ملا؟” انھوں نے کچھ حیران ہو کر پوچھا تھا-
اس نے سر کی جنبش سے انکار کیا تھا- سسٹر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا اور پھر کچھ متفکر ہو گئی تھیں-
"تمہیں کیا ہوا ہے؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟”
"کچھ نہیں ہوا…… سسٹر کچھ بھی نہیں ہوا بس جو ڈھونڈ رہی تھی، وہ نہیں ملا حالانکہ میں نے تو…… یقین کریں میں نے تو بہت کوشش کی تھی پھر بھی پتا نہیں کیوں……..”
وہ بڑبڑائی تھی- سسٹر الزبتھ نے اس کی آنکھوں میں امڈتی ہوئی نمی کو دیکھا تھا اور پھر اس کے گال چھوتے ہی ہوئے اسے جیسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی-
"کم ان ایک جوتے کے گم ہو جانے پر اتنی پریشانی ، کوئی بات نہیں- ہو جاتا ہے ایسا کئی دفعہ ایسا ہو جاتا ہے مگر اس میں رونے والی کون سی بات ہے؟ ابھی راستے سے دوسرا جوتا خرید لیں گے-”
سسٹر الزبتھ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا تھا- باقی سسٹرز نے بھی اسے تسلی دی تھی اور پھر اسے چئیر اپ کرنے کی کوشش کرنے لگی تھیں- وہ آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کرنے لگی تھی-
پچھلے کئی دنوں سے وہ سسٹر الزبتھ کے دیئے ہوئے پتے پر جا رہا تھا- فادر جوشوا کے پاس جا کر اس نے انھیں سب کچھ کہ دیا تھا- اس کے ساتھ کیا ہوا تھا- وہ خود کو کیا سمجھ رہا تھا، اس کا ذہنی خلجان-
اس نے ہر چیز کھل کر بتائی تھی- فادر جوشوا نے بڑی محبّت اور توجہ سے اس کی ساری گفتگو سنی تھی اور پھر دیر تک اسے اولڈ اور نیو ٹیسٹمنٹ سے کچھ چنی ہوئی باتیں بتاتے رہے- حضرت عیسٰی کی مسیحائی اور معجزات، مدر میری کی بے گناہی اور پاکبازی، ان کی آزمائش، حضرت عیسٰی کی تنہا زندگی جو انھوں نے لوگوں کے لیے وقف کر دی تھی اور پھر ان ہی لوگوں کے ہاتھوں ان کا دار پر چڑھایا جانا، وہ کسی سحر زدہ معمول کی طرح ان کی باتیں سنتا رہا- پہلی بار اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ یہی سب کچھ سننا چاہتا تھا- یہی سب کچھ جاننا چاہتا تھا- یہی سب کچھ محسوس کرنا چاہتا تھا-
"مجھے کچھ نہیں چاہیے فادر! میں کسی financial gains (مالی مفاد) کے لیے ادھر نہیں آیا، میں تو صرف سکون چاہتا ہوں- mental composure ذہنی یکسوئی کی ضرورت ہے مجھے اور وہ سب کچھ مجھے اپنے مذہب سے نہیں ملا- مجھے لگتا ہے یہ سب کچھ مجھے یہاں مل جائے گا- میں چاہتا ہوں مجھے رات کو نیند آ جائے، میں سب کچھ بھلا دینا چاہتا ہوں، میں کسی چیز کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا-”
وہ بول رہا تھا اور فادر جوشوا ملائمت سے مسکرا رہے تھے

جاری ہے….

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/