( غیــر مطبــوعــہ ) کیــمیا گر نے مجھے جِھڑکا ، …

( غیــر مطبــوعــہ )
کیــمیا گر نے مجھے جِھڑکا ، کہا ، گھر جاؤ
کچّـــــا لوہا کہــــاں بنتا ہے طـــلا ، گھر جاؤ
سرد تاریکی میں کیوں پھرتے ہو یوں آوارہ
دھوپ پہنا کے مجھے شب نے کہا، گھر جاؤ
قطرہ قطرہ مِری آنکھوں سے نچڑتا گیا درد
اور ہر قطـــــرہ مجھے کہتا رہا ، گھر جاؤ
"روشنی' روشنی" چِلّانے سے کب لوٹے گا
چـــــاند گنگا میں کہیں ڈوب گیــا ، گھر جاؤ
میں نے مے خانے میں غالب سے کہا ڈرتے ہوئے
نشـّے سے غم نہیں مٹتا ہے ، چچا! گھر جاؤؑ
دو نُکیرین نے دھیرے سے مجھے سمجھایا
زیست اک کھیــل ہی تھا، ختم ہوا، گھر جاؤ
میلا توختم ہوا، لوگ گھـــروں کو ہیں رواں
دھول پھانکو گی یہاں رُک کے؟ بُوآ، گھر جاؤ
"کیا تعجّب ہے جو لڑکوں نے بھلایا گھر کو" ٭
جب کہ بوڑھوں کو کئی بار کہـــا، گھر جاؤ
گونگے صحرا میں بھٹکتے ہوئے اسواروں کو
چــار اطــراف سے آتی ہے صدا، گھر جاؤ
شعر بے روح ہیں' شاعر ہیں سبھی درماندہ
بزم برخـــــاست ہوئی، بارے خدا، گھر جاؤ
دیکھو ' آنندؔ ! یہ پھـاٹکــ نہیں کُھلنے والا
لوٹ آئے گی تمھـــــاری یہ دعا، گھر جاؤ
٭ مستفاد از : اکبر الٰہ آبادی
( ســتیـاؔ پال آنند )


