منتخب غزلیں
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس…
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
آ جائیں رعبِ غیر میں ہم وہ بشر نہیں
کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں
اک تو شبِ فراق کے صدمے ہیں جاں گداز
اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں
کیا کہئے اس طرح کے تَلوُّن مزاج کو
وعدے کا ہے یہ حال اِدھر ہاں اُدھر نہیں
رکھتے قدم جو وادئِ الفت میں بے دھڑک
حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں
(حیرت الہ آبادی)
نوٹ :-: غزل کا مطلع ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں پوری غزل کل رات ہتھے چڑھی ہے
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

