منتخب غزلیں
ساغؔر صدیقی نے عید کس طرح منائی۔ (یونس ادیب کی کتا…

ساغؔر صدیقی نے عید کس طرح منائی۔
(یونس ادیب کی کتاب "داستانِ ساغؔر” سے ایک اقتباس)
عید کے دن میں اور حفیظ قندھاری صبح لوہاری میں مل گئے۔ہم یونہی قیصرِ سرائے میں جا رہے تھے تو ساغؔر وہاں مل گیا۔لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کے ساغر اپنی مخصوص کوٹھری کے باہر بیٹھا تھا اس نے ہمیں برآمدوں سے دیکھا تو حسبِ عادت اٹھ کر بولا۔”کمال ہی ہو گیا مجھے تو یاد ہیں نہیں تھا کہ آج عید ہے۔لنڈے بازار میں میری آنکھ کھُلی دُھلے دُھلائے لوگوں کو دیکھا تو یقین آ گیا کہ آج واقعی عید ہے اور میں یہاں سیدھا آ گیا۔تم سناؤ! واہ واہ یہ تو بہت ہی اچھا ہو گیا کہ آپ لوگ بھی آ گئے۔میں نے رات کے چاند پر نظم لکھی ہےـ
ہم ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گئے۔چارپائی پر آلاتِ مدہوشی پڑے تھے۔ساغؔر نے انکو سمیٹا اور اپنی جوگیوں والی زنبیل میں رکھ کر چائے لانے کیلئے جانے لگا تو میں نے کہا ۔” ٹھرو ساغؔر میں چائے کیلئے کہہ آتا ہوں” ساغر نے ادھر ادھر سر ہلا کر کہا "نہ بابا! تم فقیر کے ڈھیرے پر آئے ہو اتنا تو اخلاق برتنے دو” ۔چائے آئے تو میدان سے دو شخص اور اآٹھ کر آ گئے۔ ساغؔر نے انہیں کہا” تُم بھی بیٹھو اور چائے پیو”۔ پھر ہمیں مخاطب کر کے "بولا پردیسی ہیں گھروں سے دور ہیں میرا تو دل چاہتا ہے سوئیاں تیار کروں پر کون اس الجھن میں پڑے”
دونوں پردیسی اسے حیرت سے تک رہے تھے جو مہربان ماؤں کیطرح انہیں پیالوں میں چائے ڈال کر دے رہا تھا میں ساغؔر سے اسکی تازہ نظم سننا چاہتا تھا لیکن ساغر نے خود ہی زنبیل سے ایک کاغذ نکالا اور بیٹھ کر نظم سنانے لگا ۔ وہ تحت الفظ میں نظم پڑھ رہا تھا
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے
یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(یونس ادیب کی کتاب "داستانِ ساغؔر” سے ایک اقتباس)
عید کے دن میں اور حفیظ قندھاری صبح لوہاری میں مل گئے۔ہم یونہی قیصرِ سرائے میں جا رہے تھے تو ساغؔر وہاں مل گیا۔لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کے ساغر اپنی مخصوص کوٹھری کے باہر بیٹھا تھا اس نے ہمیں برآمدوں سے دیکھا تو حسبِ عادت اٹھ کر بولا۔”کمال ہی ہو گیا مجھے تو یاد ہیں نہیں تھا کہ آج عید ہے۔لنڈے بازار میں میری آنکھ کھُلی دُھلے دُھلائے لوگوں کو دیکھا تو یقین آ گیا کہ آج واقعی عید ہے اور میں یہاں سیدھا آ گیا۔تم سناؤ! واہ واہ یہ تو بہت ہی اچھا ہو گیا کہ آپ لوگ بھی آ گئے۔میں نے رات کے چاند پر نظم لکھی ہےـ
ہم ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گئے۔چارپائی پر آلاتِ مدہوشی پڑے تھے۔ساغؔر نے انکو سمیٹا اور اپنی جوگیوں والی زنبیل میں رکھ کر چائے لانے کیلئے جانے لگا تو میں نے کہا ۔” ٹھرو ساغؔر میں چائے کیلئے کہہ آتا ہوں” ساغر نے ادھر ادھر سر ہلا کر کہا "نہ بابا! تم فقیر کے ڈھیرے پر آئے ہو اتنا تو اخلاق برتنے دو” ۔چائے آئے تو میدان سے دو شخص اور اآٹھ کر آ گئے۔ ساغؔر نے انہیں کہا” تُم بھی بیٹھو اور چائے پیو”۔ پھر ہمیں مخاطب کر کے "بولا پردیسی ہیں گھروں سے دور ہیں میرا تو دل چاہتا ہے سوئیاں تیار کروں پر کون اس الجھن میں پڑے”
دونوں پردیسی اسے حیرت سے تک رہے تھے جو مہربان ماؤں کیطرح انہیں پیالوں میں چائے ڈال کر دے رہا تھا میں ساغؔر سے اسکی تازہ نظم سننا چاہتا تھا لیکن ساغر نے خود ہی زنبیل سے ایک کاغذ نکالا اور بیٹھ کر نظم سنانے لگا ۔ وہ تحت الفظ میں نظم پڑھ رہا تھا
عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگے سے کہاں ملتی ہے
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہے
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے
یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



ساغر نے بجا کہا تھا کہ ، ”میں شعر لِکھتا ھُوں، شعر پڑھتا ھُوں، شعر کھاتا ھُوں اور شعر پیتا ھُوں۔“
آئیں ساغر کی ایک لازوال غزل سنتے ھیں۔
ھے دُعا یاد ، مگر حرفِ دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو ، اندازِ نَوا یاد نہیں
میں نے پَلکوں سے ، درِ یار پہ دستک دی ھے
میں وہ سائل ھُوں ، جسے کوئی صدا یاد نہیں
ھم نے جن کے لیے ، راھوں میں بچھایا تھا لہُو
ھم سے کہتے ھیں وھی ، عہدِ وفا یاد نہیں
کیسے بَھر آئیں ، سرِ شام کسی کی آنکھیں ؟؟
کیسے تَھرائی چراغوں کی ضیا ، یاد نہیں
صرف دُھندلائے ستاروں کی ، چمک دیکھی ھے
کب ھُوا ، کون ھُوا ، کس سے خفا ، یاد نہیں
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ھے
جانے کس جرم کی پائی ھے سزا ، یاد نہیں
آؤ , ایک سجدہ کریں ، عالمِ مدھوشی میں
لوگ کہتے ھیں ، کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
”ساغر صدیقی“
بہت اعلٰی
Speechlee i m ????
کیسے کیسے گوہر خاک میں مل گۓ????
الفاظ نہیں ہیں،، ????????????????
Hayee
Khuda bakshy ajab azaad mard tha…
❤