منتخب غزلیں

پرویؔن شاکر متاعِ قلب و جگِر ہیں، ہَمَیں کہیں سے مِلَیں مگر وہ زخم ،جو اُس دستِ…

پرویؔن شاکر

متاعِ قلب و جگِر ہیں، ہَمَیں کہیں سے مِلَیں
مگر وہ زخم ،جو اُس دستِ شبنَمِیں سے مِلَیں

نہ شام ہے، نہ گھنی رات ہے، نہ پچھلا پہر!
عجیب رنگ تِری چشمِ سُرمگیں سے مِلیں

میں اِس وِصال کے لمحے کا نام کیا رکھّوں
تِرے لباس کی شِکنیں، تِری جَبِیں سے مِلَیں

ستائشیں مِرے احباب کی نوازِش ہیں
مگر صِلے تو مجھے اپنے نُکتہ چِیں سے مِلَیں

تمام عُمر کی نا مُعتبر رِفاقت سے
کہِیں بَھلا ہو! کہ پَل بھر مِلَیں، یقیں سے مِلَیں

یہی رہا ہے مُقدّر مِرے کِسانوں کا
کہ چاند بَوئیں اور اُن کو گہن زمِیں سے مِلَیں

پرویؔن شاکر


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/