منتخب غزلیں

*عید آئی ہے مگر ۔۔۔۔* سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ …

*عید آئی ہے مگر ۔۔۔۔*
سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ تنہائی ہے
عید آئی ہے مگر تیرے بغیر آئی ہے
اپنے ہاتھوں پہ مرا نام لکھا تھا تُو نے
اور دھیرے سے اسے چوم لیا تھا تُو نے
شرمگیں نظروں سے کیا کچھ نہ کہا تھا تُو نے
جس کو دہرانا مرے پیار کی رسوائی ہے
عید آئی ہے مگر تیرے بغیر آئی ہے
تیری زلفوں کے تعطر میں بسی راتیں تھیں
کتنا پُر کیف سماں ، کیسی حسیں باتیں تھیں
وہ بھی کیا دَور تھا ہر روز ملاقاتیں تھیں
آج کیوں میرے مقدر میں یہ تنہائی ہے
عید آئی ہے مگر تیرے بغیر آئی ہے
میں نے کوشش تو بہت کی کہ بھلا دوں تجھ کو
صفحۂ دل سے کُھرچ ڈالوں ، ہٹا دوں تجھ کو
لیکن اے جانِ وفا اتنا بتا دوں تجھ کو
آج بھی دل مرا تیرا ہی تمنائی ہے
عید آئی ہے مگر تیرے بغیر آئی ہے

کیا ہوا پاس نہیں تُو ، تری تصویر تو ہے
خانۂ دل میں تری یاد کی تنویر تو ہے
دل میں پیوست غمِ ہجر کا اک تیر تو ہے
شکر ہے اتنے سہاروں کی پزیرائی ہے
عید آئی ہے مگر تیرے بغیر آئی ہے
……..
? *پیرزادہ شارقؔ احمد* ، ناسک: مہاراشٹرا انڈیا

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/