چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے اور وہ بھی اس…

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے
اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے
میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد؟
کہنے لگے " حضور ! یہ فرصت کی بات ہے "
میں نے کہا کہ مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے
کہنے لگے " حضور ! یہ قسمت کی بات ہے "
میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا
کہنے لگے " حضور ! یہ قربت کی بات ہے "
میں نے کہا کہ دیتے ہیں دل، تم بھی لاؤ دل
کہنے لگے کہ " یہ تو تجارت کی بات ہے
میں نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم
کہنے لگے کہ " یہ تو طبیعت کی بات ہے "
(قمر جلال آبادی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
And that too because it's a matter of love
I said you have come after how many days?
They said ′′ Huzoor! It's a matter of leisure ′′
I said why couldn't we meet even after meeting
They said ′′ Huzoor! It's a matter of luck ′′
I told you that you are angry on everything
They said ′′ Huzoor! It's a matter of closeness ′′
I said that they give heart, you also bring heart
They said ′′ it's a matter of trade ′′
I said sometimes it is torture and sometimes it is mercy
They said ′′ It's a matter of nature ′′
(Qamar Jalal Abadi)
Marsal :-: Abul Hasan Ali Nadvi


