ترے ستم کی زمانہ دہائی دیتا ہے کبھی یہ…

ترے ستم کی زمانہ دہائی دیتا ہے
کبھی یہ شور تجھے بھی سنائی دیتا ہے
شجر سے ٹوٹنے والے ہر ایک پتے میں
ترے بچھڑنے کا منظر دکھائی دیتا ہے
جو دل میں بات ہو کھلتی نہیں کسی پہ مگر
کہے جو آنکھ وہ سب کو سنائی دیتا ہے
میں اختیار تمہیں اپنا سونپ دوں کیسے
کبھی خدا بھی کسی کو خدائی دیتا ہے
اداس رات کے آنگن میں ڈوبتا سایہ
بچھڑنے والے کا پیکر دکھائی دیتا ہے
خزاں مزاج ہے وہ ، چھوڑ دو اسے خاور
وہ موسموں کے سفر میں جدائی دیتا ہے
(خاقان خاور)
المرسل :-: ابوالحسن علی (ندوی)
Sometimes you also hear this noise
In every leaf that breaks from a tree
The scene of your separation is visible
What is in the heart doesn't open to anyone but
The eye that says is heard by everyone
How can I give you my option?
Sometimes God also gives God to someone
Shadow setting in the courtyard of a sad night
The packer of the one who left is visible
She is autumn, leave her Khawar
He gives separation in the journey of seasons
(Khaqan Khawar)
Marsal :-: Abul Hasan Ali (Nadvi)


