منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) یہ چمن ہے اور ہی کچھ،رنگ و ب…

( غیــر مطبــوعــہ )

یہ چمن ہے اور ہی کچھ،رنگ و بو کچھ اور ہے
خامشـــی کی بات کیا، وہ خوش گلو کچھ اور ہے

دریا دریا بہــہ رہی ہے خـــامشـــی کے ساتھ اور
یہ جـــــو اڑتی ریت ہے، یہ آب جو کچھ اور ہے

تشـنگی کـو تشـنگی سے زیر کــرنا ہے مجھــے
میں جہــــاں ہوں یہ فــــراتِ آرزو، کچھ اور ہے

دشت ہے گل رنگ ' میرے خــون کی تاثیر سے
میں رگِ سبـــز اور ہوں، میرا لہـو کچھ اور ہے

زندگی زخـــمِ مســلســل ہے سو اب دل کے لیے
کارِ مـــــرہــم اور کچھ، کارِ رفـــو کچھ اور ہے

بند ہونٹوں سے اُدھر اکــــ باغ مہــــکا ہے مگـر
اے گلِ آواز ! وہ کچـھ اور، تُــــو کچھ اور ہے

روشنی ہے اور ہی کچھ، چاندنی کچھ اور شے
سـایـہ سایـہ دھوپ لیکن کُو بَہ کُو کچھ اور ہے

( خُــورشـیـــد ؔ ربّـانـی )

— with Khurshid Rabbani.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/