منتخب غزلیں
واصف علی واصف جنہیں تیرا نقش قدم ملا وہ غم جہاں س…
واصف علی واصف
جنہیں تیرا نقش قدم ملا وہ غم جہاں سے نکل گئے
یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کہ ہم جو سنبھل گئے
تو ہی کائنات کا راز ہےتیرا عشق میری نماز ہے
تیرے در کے سجدے میرے نبی میری زندگی کو بدل گئے
تو مصوری کا کمال ہے تو خدا کا حسن خیال ہے
جنہیں تیرا جلوہ عطا ہوا وہ تیرے جمال میں ڈھل گئے
تھے ہزار صدیوں کہ راستے جو رسول پاک نے طے کیے
وہ تو ایک رات کی بات تھی کہ زمانے جس سے بدل گئے
تیرا بندہ واصف بے خبر تیرا راز سمجھا ہے اس قدر
تجھے جب پکارا چشم تر کئی مرحلے تھے جو ٹل گئے


