قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا م…
قرابتوں کا مگر اعتبار باقی رکھ
بکھرنا ہے تو فضا میں بکھیر دے خوشبو
حیا نظر میں، قدم میں وقار باقی رکھ
ہمیں ہمارے ہی خوابوں سے کون روکے گا
کھینچا ہوا ہے جو خطِّ حصار باقی رکھ
ترا وجود عبارت ہے خوش ادائی سے
کشیدہ قامتئ خوشگوار باقی رکھ
خزاں سے صلح بَرَت، کیونکہ وہ تو آئے گی
پھر اہتمام سے فصلِ بہار باقی رکھ
یہ کج کُلاہ نئے وقت کے نہ ٹھہریں گے
کھنچی کمان مرے شہریار باقی رکھ
مٹے مٹے سے نقوشِ قدم ہیں کچھ باقی
یہ خوشبوؤں میں بسی رہ گزار باقی رکھ
یہ سرد و گرم جو ماحول کے تقاضے ہیں
بہ چشمِ نم نفسِ شعلہ بار باقی رکھ
تکان ہے تو سنبھل جا مگر نہ اونگھ کبھی
سفر کی دُھول، بدن کا غبار باقی رکھ
انا بکھیر نہ ہرگز بچا کے رکھ خود کو
ہر ایک در پہ نہ دامن پسار باقی رکھ
یہ نوطرازئ معنی بھی ایک شئے ہے عتیق
روایتوں سے بھی رشتے سنوار باقی رکھ
(عتیق اثر)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

