منتخب غزلیں

سلیمؔ احمد​ چھایا ہُوا تھا رنگِ غم، دِل پہ غُبار …

سلیمؔ احمد​

چھایا ہُوا تھا رنگِ غم، دِل پہ غُبار کی طرح
میں نے اُسی غُبار سے، ڈالی بہار کی طرح

رنج ہزارہا سہی، دِل نہ دُکھے تو کیا علاج
بے حس و بے خیال ہُوں سنگِ مزار کی طرح

چلتا ہُوں اپنے زور میں، مرکبِ وقت کے بغیر
سعی وعمل کی نے پہ ہُوں طفلِ سوار کی طرح

زورِ ہوا سے اُڑ گئے حبسِ ہوا سے گھٹ گئے
قافلۂ حیات میں، ہم ہیں غُبار کی طرح

میری بہائے فن ہے یہ مجھ سے ہے کارزرگراں
رکھا گیا دکان میں مجھ کو عیار کی طرح

دِل سے غَمِ حیات کو عِشق سے کھینچ لیجیے
بعد میں پھینک دیجیے، دونوں کو خار کی طرح

حالتِ یاس اور گُناہ، دِل میں کوئی خیال سا
رات کی تِیَرگی میں ہے دِیدۂ مار کی طرح

اب مِرے برگ و بار میں، باقی نہیں نم و نمو
تُو مِری زندگی میں تھا فصلِ بہار کی طرح ​

سلیمؔ احمد​


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/