منتخب غزلیں
سعد جمشید رنج کا کب عِلاج کرتی ہے زندگی کل اور …

سعد جمشید
رنج کا کب عِلاج کرتی ہے
زندگی کل اور آج کرتی ہے
لوگ تیار کیوں نہیں ہوتے
سادگی احتجاج کرتی ہے
روز جیتے ہیں ،روز مرتے ہیں
زندگی کام کاج کرتی ہے
بزرگی کیا سفید چڑیا ہے؟
ہر عمل اندراج کرتی ہے
شام ِ ہجراں اُداس لوگوں کا
ہرمرض لاعِلاج کرتی ہے
آؤ چلتے ہیں اُس کے رستے پر
زندگی پر جو راج کرتی ہے
سعد جمشید
کینیڈا



