منتخب غزلیں
زندگی روز تماشے نئے دیکھاتی ہے زندگی روز ہنساتی …
زندگی
روز تماشے نئے دیکھاتی ہے
زندگی
روز ہنساتی ہے اور رولاتی ہے
ٹھنڈی چھاؤں ہے
کبھی دھوپ سی پہیلی ہے
کبھی ہجوم ِ بے کراں
کبھی اکیلی ہے
زندگی
جو بھی مجھے امتحان دینے تھے
میں دے چکا ہوں
نہیں اور نہیں رہنے دے
بڑی مشکل سے تو
جینے پہ میں آمادہ ہوں
زندگی چھوڑ دے پیچھا
میں بہت سادہ ہوں
زندگی
دیکھ ہمیں اب نا آزمایا کر
اجاڑ دل کو نا شمشان تو بنایا کر
زندگی
تیرا کوئی قرض تو نہیں رکھا
چکا دیا ہے
کوئی فرض تو نہیں رکھا
زندگی
اب توحقیقت سے مجھ کو مس کر دے
خدا کے واسطے
اے زندگی
اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کر دے“
روز تماشے نئے دیکھاتی ہے
زندگی
روز ہنساتی ہے اور رولاتی ہے
ٹھنڈی چھاؤں ہے
کبھی دھوپ سی پہیلی ہے
کبھی ہجوم ِ بے کراں
کبھی اکیلی ہے
زندگی
جو بھی مجھے امتحان دینے تھے
میں دے چکا ہوں
نہیں اور نہیں رہنے دے
بڑی مشکل سے تو
جینے پہ میں آمادہ ہوں
زندگی چھوڑ دے پیچھا
میں بہت سادہ ہوں
زندگی
دیکھ ہمیں اب نا آزمایا کر
اجاڑ دل کو نا شمشان تو بنایا کر
زندگی
تیرا کوئی قرض تو نہیں رکھا
چکا دیا ہے
کوئی فرض تو نہیں رکھا
زندگی
اب توحقیقت سے مجھ کو مس کر دے
خدا کے واسطے
اے زندگی
اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کر دے“
خرم خاکی رضوی

