منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) اس بود اور نبُود سے باہَر نک…

( غیــر مطبــوعــہ )
اس بود اور نبُود سے باہَر نکل کے دیکھ
اک بار تو قیود سے باہر نکل کے دیکھ
تجھ کو دکھاؤں جلوہ ء صد رنگ آرزو
پابندی ء سجود سے باہر نکل کے دیکھ
اک ساعتِ سعود بھی آئے گی درمیاں
ہنگامہ ء وجود سے باہر نکل کے دیکھ
بے انتہا میں جا کے مزہ انتہا کا لے
مے خانہ ء حدود سے باہر نکل کے دیکھ
کب تک رہے گی پردہ ء ظاہر کی آب و تاب
اب حلقہ ء نمود سے باہر نکل کے دیکھ
پھر سنگ پھینک جھیل میں کچھ اضطراب ہو
اے زندگی ! جمود سے باہر نکل کے دیکھ
( شــائِستـہ سَــحَــرؔ )

