منتخب نظمیں
مرمریں ہتھیلی پہ کھلتا کاسنی خواب نیلی رگوں سے جن…
مرمریں ہتھیلی پہ کھلتا کاسنی خواب
نیلی رگوں سے جنما ہے
خواہشوں کا مستقبل پیدا ہوتے ہی متعین کر لیا جاتا ہے
لیکن اس بار چاہے جانے کا شوق آخری ہے
مکمل گھر بس ایک کے نظر اٹھانے سے بن جائے
تو دوسری نظروں میں رہنا چھبنے لگتا ہے
میرے لفظوں میں اپنے ہونے کی خوشی تلاشنے والے
سنو!
تمہارے ہونے کا سکون
چائے کے مگ میں انڈیلی ہوئی میری ہنسی سے عیاں تھا
زندگی
میرے میٹھے خیال!
لفظوں کے سائے میں دن اور رات کاٹنا
مسلسل رت جگے جیسا ہے
یہاں وہاں کہے جملوں میں سے اپنا حصہ چننے کی تھکن
تم کیسے جانو گے کہ
تمہارے نام تو پوری نظم ہوتی ہے!
انجیل صحیفہ

