( غیــر مطبــوعــہ ) تابوت میں بند حواس مِرے …
تابوت میں بند حواس
مِرے ساتھ سانسوں کی صورت
وہ تاریخ کے سارے اوراق میں جاگتا ہے
کثافت زدہ ناخُنوں کی سرَنجوں میں
بَل کھاتے بچُّھو بھرے
مری پھیپھڑوں کی توانائیوں میں
مصائب سے سمجھوتا کرنے
حقیقت کو کٹھ پتلیوں کا تماشا سمَجھنے کا
سرطان داخل کرے !
مجھے زندہ رہنے کے ایسے قرینے سکھاتا ہے
جن کے سرابوں میں اپنی حفاظت کی زنجیر پہنے
مِرے پانو رقصاں رہے!
کشت درکشت بحراں رہے !
ٹھوکروں میں گلِستاں رہے !
بے نوا کشتیوں پہ بپھرتے سمُندر میں
چَکلوں کے نیلام خانوں میں
بد بخت مجنوں پہ بھاری صداقت کے صحرا میں
آتش فشاں نخل ہاے تمنّا تلے
گول میزوں پہ ٹوٹے ہوئے آئنوں میں
کہ سُندر بنوں کی شفق رنگ شاموں میں، ہر سُو
ہوائوں کی مانند موجود آفت،مری انگلیاں
آگ اور خون کی ریشمی چھتریاں کھولتی ہیں!
مقابر کی بے گوش تاریکیوں میں
کیفوں میں گھٹیا تمباکو کی مانند سلگے ہجوموں میں
محکوم پگ ڈنڈیوں اور محصور سڑکوں پہ
کُچلے سُروں کے تعفُّن میں
ویراں دفاتر کی بوسیدہ میزوں پہ آراستہ
سرخ جونکوں کی دہشت میں
دارابیوں سے بندھے ،سبز گولے اگلتے
سیہ آہنی اژدہوں کے ہزیمت زدہ شور میں
منہَمک جبر کے
اپنے ہاتھوں میں فولادی دُرّے لیے ۔۔ !
محافظ مِرا جاگتا ہے !
خود اپنے پپوٹوں میں خاشاک ہوتے
تدبُّر کے غرّے لیے ۔۔ !
محافظ مرا جاگتا ہے
( ســعـادتؔ ســعیــد )


