منتخب غزلیں
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی …


آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
بُجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی
کُھل گئے شہرِ غم کے دَروازے
اِک ذرا سی ہَوا کے چلتے ہی
کون تھا تُو کہ پِھر نہ دیکھا تُجھے
مِٹ گیا خواب آنکھ مَلتے ہی
خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہِ شب تاب کے نِکلتے ہی
تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکسِ دیوار کے بدلتے ہی
خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زہر گُل مَسلتے ہی۔۔۔!
کلام مُنیرؔ نیازی
آواز غلام علی


وااااہ
زبردست
Wah
خاں صاحب غلام علی بڑے فنکار ہیں مگر میرے خیال سے سلیم رضا نے یہ غزل بہتر انداز میں گائی ہے۔ لیکن سلیم رضا نے اسے گیت انگ میں گایا ہے