محبت صرف تم سے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 06 ناصر ہا…

قسط نمبر 06
ناصر ہاؤس میں دوسرے دنوں کے مقابلے میں زیادہ گہما گہمی تھی کیونکے زینب کی فیملی ان کے گھر ڈنر پے آئی ہوئی تھی انس ،زینب سے بات کر رہا تھا دعا اور شایان بھی انکے ساتھ ہی بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے شہریار اپنے والد ناصر اور ارشاد کے ساتھ محو گفتگو تھا اور اور دونوں بیگمات بھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں کھانے کا ٹائم ہوا تو باتوں کا یہ سلسلہ تھما اور ڈائننگ ٹیبل پے کھانا لگایا جانے لگا کھانا لگنے کے بعد سب ڈائننگ ٹیبل پے بیٹھے کھانا کھاتے ہوئے ناصر خان نے بات شروع کی.”میں کیا کہ رہا تھا ارشاد بھائی”……”کیا؟”…”میں چاہتا ہوں کہ شادی سات ماہ کی جگہ ایک ماہ میں ہی ہو جائے "ناصر کی بات سن کر ارشاد نظیر چونکے ” کیوں ناصر بھائی اتنی جلدی شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟”…”ارے ارشاد صاحب آپ نے دیکھا نہیں کہ آج کیسے دن دہاڑے وہ افنان زینب کو اغوا کر کے چلا گیا اور پھر شہریار نے اسے مار بھی دیا مجھے یقین ہے کہ اب امجد شاہ چپ نہیں بیٹھے گا وہ اپنے بیٹے کی موت کا بدلہ شہریار یا زینب سے لے گا لہٰذا میں چاہتا ہوں اس سے پہلے کہ ان کے درمیان کوئی اور رکاوٹ کھڑی ہو انکی جلد از جلد شادی کر دی جائے "…..” بات تو آپکی صحیح ہے ناصر میاں پر اتنی جلدی شادی "…..” جلدی کہاں ہے سات ماہ بعد تو ویسے بھی ہو رہی ہے لہٰذا جلد ہی کر دی جائے آخر اس میں حرج ہی کیا ہے”…..”نہیں حرج کوئی نہیں اگر آپکو مناسب لگتا ہے تو ہم ایک ماہ بعد شادی کر دیتے ہیں "….” مجھے تو مناسب ہی لگتا ہے آپکا کیا خیال ہے؟”…..”جی میرا بھی یہی خیال ہے”ارشاد نظیر نے ناصر کی تائید کی.”لیکن میرا یہ خیال نہیں ہے”شہریار نے گفتگو میں حصّہ لیا….”کیوں تمہارا خیال ہم سے مختلف ہے؟ناصر خان نے پوچھا "…”جی بہت مختلف ہے”…..” اچھا پھر بتاؤ تم کیا سوچ رہے ہو؟”.نجمہ بیگم نے کہا..”میں چاہتا ہوں کہ شادی اپنے وقت پر ہی ہو آپ لوگ خوامخواہ امجد شاہ سے ڈر رہے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتا میرے خلاف "…” چاہے وہ کچھ بھی نہ کرے لیکن پھر بھی ہم چاہتے ہیں کہ تم جلدی شادی کر لو”…ارشاد نظیر بولے.”ارے آپ لوگ خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں "…” پریشان نہیں ہو رہے ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ تم جلدی سے شادی کر لو”…”ٹھیک ہے اگر آپ لوگ چاہتے ہیں تو یہی صحیح”شہریار نے ہتھیار ڈالے..”آپ لوگ چاہتے ہیں نہیں آپ بھی یہی چاہتے ہیں”..انس نے شوخ لہجے میں کہا تو شہریار نے اسے گھورا.”کیا مطلب ہے تمہارا میں کیا چاہتا ہوں؟”….”آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ آپکی جلدی شادی ہو جائے یہ تو بس فضول کی ڈرامے بازیاں کر رہے ہیں ورنہ آپ اور لیٹ شادی کرنا چاہیں امپوسیبل اور میں تو یہ تک کہ سکتا ہوں کہ اگر آپکے بس میں ہو نہ تو کل ہی شادی کر کے بیٹھ جائیں.”…..”بہت زبان چل رہی ہے تمہاری”..شہریار نے منہ بنا کر کہا.”سچ کی خاطر چل رہی ہے نہ”.انس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو وہاں بیٹھی زینب کی ہنسی نکل گئی شہریار نے پہلے اسے گھورا پھر انس کو دونوں ہی چپ ہو گئے اور سب نے خاموشی سے کھانا کھایا کھانے کے بعد نجمہ اور زینب سب کیلئے چائے بنا لائیں اور چائے کا دور چلا چائے پینے کے بعد وہ لوگ جانے کی تیاری کرنے لگے اور ارشاد نظیر نے جاتے جاتے بھی شہریار سے اسکی شادی کی بات پکی کروا ہی لی..”شہریار بیٹا پھر ایک ماہ بعد شادی کر رہے ہو نہ؟”….”جی جی بلکل”شہریار انکار نہیں کر سکا اور وہ سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئے….
*************************************************
مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری سدا روتے رہو یہ دعا ہے ہماری…انس گانا گاتا ہوا شہریار کے کمرے میں داخل ہوا جو پولیس اسٹیشن جانے کی تیاری کر رہا تھا…”ایسی بے سری آواز”شہریار نے ہنس کر کہا اور ساتھ ہی پرفيوم اپنے کپڑوں پے چھڑکا …”آپ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے”انس نے ہنس کر شہریار کا باڈی اسپرے اٹھایا "انس میرے باڈی اسپرے کو ہاتھ بھی مت لگانا "…” واہ باڈی اسپرے تو بہت ہی اچھا ہے مجھے تو آپ ہمیشہ سستی چیزیں دلاتے ہیں اور خود مہنگی مہنگی چیزیں رکھتے ہیں "…” اگر تمھیں یہ 370 والا باڈی اسپرے مہنگا لگتا ہے تو تم یہ بلا جھجھک لے سکتے ہو”…..”واٹ 370″ انس نے منہ بنایا …”ہاں 370 "شہریار نے یہ کہ کر گھڑی پہنی.” اور یہ گھڑی یہ کتنے کی ہے؟”…انس نے اسکی گھڑی کو دیکھا ..”اسکی قیمت مجھے نہیں معلوم یہ بہت ہی خاص انسان کا گفٹ ہے "…” اچھا بھابھی نے دیا ہے "….” ہاں”.”اچھا میں جا رہا ہوں”انس بولا…”تو چلے جاؤ میں کونسا تمھیں روک رہا ہوں”…”حد ہے انسان اخلاقاً ہی بول دے کہ اچھا جا رہے ہو بیٹھ جاؤ”…..”معاف کرنا میں اخلاق نامی شہ سے بلکل ناواقف ہوں”…..”یس آئی نو”انس نے منہ بنا کر کہا اور کمرے سے نکل گیا شہریار اپنے بال بنانے لگا جب وہ تیار ہو گیا تو نیچے آیا اور ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد جب وہ گھر سے نکل رہا تھا تب نجمہ نے اسے روک کر کہا ..”شہریار آج رات ذرا جلدی آ جانا”…..”کیوں؟”…آج مہمان آ رہے ہیں نہ لاہور سے ” .”کونسے مہمان؟”…”ارے تمہاری خالہ اور کون” ….”اچھا خالہ آ رہی ہیں” ….”ہاں آج شام تک پہنچ جائیں گی”….”اچھا ویسے کیوں آ رہی ہیں وہ ؟”….”کیوں آ رہی ہیں سے کیا مطلب ہے؟ وہ میری بہن ہیں "..” ارے مجھے بھی پتا ہے کہ وہ آپکی بہن ہیں میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ وہ کس سلسلے میں آ رہی ہیں”….”تمہاری شادی کے سلسلے میں”….”شادی تو بیس دن بعد ہے”……”ہاں تو "..” تو وہ اتنی جلدی آ رہی ہیں” ….”یہ جلدی ہے میں تو انہیں دو ماہ پہلے ہی بلا لیتی لیکن شادی کی ڈیٹ پیچھے ہو گئی تو وہ بھی جلدی نہیں آ سکیں” ….”اچھا ٹھیک ہے میں آج جلدی آ جاؤں گا”….شہریار نے کہا…”ٹھیک ہے بیٹا اللّه حافظ” ….”اللّه حافظ”..شہریار جواب دے کر آگے بڑھ گیا…
**************************************************
امجد شاہ اپنے گھر کے لان میں بیٹھا تھا وہ کل شام ہی اپنے جوان بیٹے کی تدفین کر کے آیا تھا کچھ کچھ اداس تھا وہ افنان سے ناراض بھی تھا کہ خوامخواہ اتنا بڑا قدم اٹھایا اور مارا گیا وہ شہریار کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا کیونکے اسے تو یہی لگتا تھا کہ شہریار نے افنان کو جان بوجھ کر نہیں مارا تھا امجد شاہ ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے بیٹھا تھا دفعتا اسکا موبائل بجا امجد نے موبائل پے نگاہ ڈالی اسکے ملازم بختاور کی کال تھی…”ہیلو بختاور امجد سپیکنگ”….”ہیلو سر کل رات تک ٹرکس کراچی پہنچ جائیں گے مجھے ابھی دوسرے شہر سے خبر ملی ہے”….”اچھا کسکے ؟ہیروئن کے نہ”…..”یس سر” ….”اوکے بختاور تم سب سنبھال لینا”…”اوکے سر میں سب سنبھال لوں گا سارا مال آپکے گھر پہنچ جائے گا”….”واٹ تم ہیروئن میرے گھر بھجواؤ گے .”…”سوری سر میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ سارا مال آپکے خفیہ اڈے تک پہنچ جائے گا”….”ہاں ایسے کہو نہ”….”اچھا سر خدا حافظ”….”خدا حافظ”امجد شاہ نے یہ کہ کر کال کاٹ دی اور اپنے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ میں سے چائے کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنے لگا…
***************************************************
شہریار گھر آیا تو اسکی خالہ آئی ہوئی تھیں اور انکے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی جو شہریار کے کزن تھے وہ سب گھر کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے شہریار بھی ان لوگوں کے درمیان ہی بیٹھ گیا سب اسکی شادی کی بات ہی کر رہے تھے شہریار کو دیکھ کر خالہ افشاں نے کہا…”مبارک ہو بھائی دولہے راجہ آئے ہیں”…خالہ کی بات پے شہریار بے اختیار مسکرا اٹھا.”یہ شرماہٹ کی مسکراہٹ ہے یا ہڈ حرامٹ کی "….” ہڈحرامٹ کیا ہوتا ہے؟”….شہریار نے عجیب سے لہجے میں کہا..”ارے جیسے شرم کا ہوتا ہے شرماہٹ ویسے ہی ہڈحرام کا ہوتا ہے ہڈحرامٹ بھی "….شہریار ہنسا ” ہاہاہاہا اچھا اچھا ٹھیک ہے ویسے یہ ہڈحرامٹ کی نہیں شرماہٹ کی مسکراہٹ ہے "..شہریار یہ کہ کر رکا اور اپنے کزنز کو دیکھا .” آج تم لوگوں نے چپ رہنے کی قسم کھا رکھی ہے کیا؟”…”نہیں ہم انتظار کر رہے تھے آپکی اور امی کی بات ختم ہونے کا”….خالہ کے سب سے بڑے بیٹے رافع نے کہا..”ہماری باتیں تو ختم نہیں ہوں گی تم انتظار کرتے کرتے مر جاؤ گے”…”اچھا اتنی لمبی باتیں کریں گے آپ لوگ”…خالہ کی سب سے چھوٹی بیٹی عنایا بولی.”ہاں نہ اتنے عرصے بعد تو خالہ سے ملاقات ہوئی ہے”..شہریار بولا.”چلیں اب آ تو گئیں کرتے رہئے گا باتیں”خالہ کے منجھلے بیٹے کاشان نے کہا.”ہاں ہاں اب تو کرتے ہی رہیں گے لیکن پہلے کھانا کھا لیتے ہیں”شہریار نے یہ کہ کر نجمہ بیگم کو آواز لگا کر کھانے کا پوچھا.”ہاں بیٹا آ جاؤ کھانا بن گیا ہے میں بس لگا رہی ہوں”نجمہ بیگم نے بتایا”اچھا امی آتا ہوں”یہ کہ کر شہریار اٹھا اور ان لوگوں کو کھانے کیلئے آنے کا کہ کر ڈائننگ ہال کی طرف بڑھ گیا..
**************************************************
شہریار کراچی کے اس سنسان علاقے میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا اسکے ساتھ اسکی پوری پولیس ٹیم تھی یہ علاقہ منشیات کی خرید و فروخت کیلئے مشھور تھا شہریار اس وقت گرما گرم کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا اسکے ساتھی بھی کافی وغیرہ پی رہی تھے کوئی اپنا موبائل استمعال کر رہا تھا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ لوگ وہاں اپنی ڈیوٹی تو نہیں کر رہے تھے بلکہ پکنک منا رہے تھے شہریار نے کافی کا لمبا گھونٹ بھرا اور سامنے نگاہ ڈالی دور سے ایک ٹرک آتا دکھائی دیا وہ اس ہی طرف آ رہا تھا جہاں پے انکی گاڑی کھڑی تھی شہریار اس ہی پے نظریں جمائے ہوئے تھا جیسے ہی وہ قریب آیا شہریار کے بندوں نے اسے روک لیا.
"کیا ہے ٹرک میں؟”شہریار نے پوچھا..” سامان ہے”..”کیسا سامان؟”….”کپڑا ہے”….”کونسے شہر سے آ رہا ہے یہ ٹرک؟”.شہریار نے پوچھا.”حیدرآباد”…”اچھا چلو جلدی سے سامان دکھاؤ”.شہریار نے سخت لہجے میں کہا..”چھوڑو نہ سر بتایا تو ہے کہ کپڑا ہے”میں نے کہا ٹرک میں موجود سامان دکھاؤ”….”ارے سر یہ لو”.یہ کہ کر ٹرک ڈرائیور نے پانچ ہزار کا ایک نوٹ شہریار کو دیا.”تم ایک شریف پولیس انسپکٹر کو رشوت دے رہے ہو مجھے تمہارے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں جلدی سے ٹرک کھولو”…یہ کہ کر شہریار نے وہ نوٹ واپس ڈرائیور کو دے دیا ڈرائیور کچھ نہیں بولا بس پیسے لے لئے شہریار نے اپنے ایک کانسٹیبل کو ٹرک کا پچھلا حصّہ کھول کر تلاشی لینے کو کہا وہ فورا حرکت میں آیا اور ٹرک کے پچھلے حصّے کا تالا توڑ دیا یہ دیکھ کر ڈرائیور نیچے اتر کر انہیں اندر چڑھنے سے روکنے کیلئے بڑھا لیکن تین چار پولیس والے پہلے ہی ٹرک میں چڑھ چکے تھے اور شہریار ٹرک ڈرائیور کو پکڑے کھڑا تھا وہ خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کر رہا تھا لیکن شہریار نے بھی اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئی تھی دس منٹ بعد پولیس کانسٹیبلز باہر نکلے تو ان کے ہاتھ میں آٹھ بڑے بڑے بیگز تھے شہریار نے انہیں وہ بیگز کھولنے کا کہا انہوں نے ایک ایک کر کے تمام بیگز کھولے ان سب بیگز میں ایک ہی چیز تھی جسے ہم ہیروئن کہتے ہیں یہ دیکھتے ہی شہریار نے اس ٹرک ڈرائیور کے چہرے پے آٹھ دس تھپڑ جڑ دئے "اسے کہتے ہو تم کپڑا یہ ہے کپڑا کیا تم گھر میں یہ پہن کر گھومتے ہو” شہریار لگاتار اسے مارے جا رہا تھا اور وہ انکار میں سر ہلا رہا تھا.”بتاؤ کس کا مال ہے یہ”..”مجھے نہیں پتا”…”بتاؤ کس کا مال ہے؟”…”مجھے نہیں پتا”..”چلو نومی یہ ٹرک تھانے لے کر چلو اور اس بندے کو بھی جب وہاں ڈنڈے پڑیں گے سب پتہ چل جائے گا ….”نہیں نہیں پلیز مجھے تھانے مت لے کر جاؤ..” پھر بتاؤ کسکا ہے یہ مال؟”….اس بار شہریار نے نرمی سے پوچھا تو اس نے جواباً کہا.”امجد شاہ”…”اوہ "شہریار معنی خیز انداز میں مسکرایا…
***************************************************
رات گہری سیاہ ہو رہی تھی امجد شاہ اپنے گودام میں کرسی لگائے بیٹھا اپنے ٹرک کا منتظر تھا آج اسکا مال حیدرآباد سے کراچی پہنچنے والا تھا اس لئے وہ بہت فکرمند تھا آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور دور سے ٹرک آتا دکھائی دیا اسکی ہیڈ لائٹس جل رہی تھیں امجد شاہ فورا کھڑا ہو گیا ٹرک گودام میں آ کر رکا اور اس میں سے ڈرائیور باہر نکلا وہ امجد شاہ کا ہی ڈرائیور تھا وہ اپنے ڈرائیور کو اچھے سے پہچانتاتھا .” کوئی مسلہ تو نہیں ہوا؟”.امجد شاہ نے پوچھا…”نہیں سر کوئی مسلہ نہیں ہوا سب مال ساتھ خیریت سے پہنچ گیا.”..”چلو اچھا ہے مجھے بڑی فکر تھی میری پریشانی دور ہو گئی اب جلدی سے یہ مال بھی اتروا کر گودام میں رکھوا دو تب ہی مجھے چین کی نیند آئے گی”….”ضرور سر مال بھی ابھی اتار دیتے ہیں”ڈرائیور نے خوشدلى سے کہا اور ٹرک کا پچھلا حصّہ کھول دیا امجد شاہ کے دو بندے وہ بیگ اتارنے کیلئے ٹرک کے اندر چڑھے انکے چڑھنے کے چند سیکنڈ بعد ہی دونوں کو چیخیں فضا میں بلند ہوئیں اس سے پہلے کے امجد شاہ کچھ سوچتا ٹرک کے پچھلے حصّے سے ہی باوردى پولیس والے باہر نکلے اور امجد شاہ سمیت اسکے تمام بندوں کو نشانے پے لے لیا ان پولیس والوں کے درمیان میں سے شہریار نکلا اور مسکراتا ہوا امجد شاہ کے سامنے جا کھڑا ہوا.”مجھے پہچانا ؟ویسے پہچان تو گئے ہوگے کیونکے میرے ہی ہاتھوں تمہارا بیٹا دوسری دنیا گیا تھا اور اب بہت جلد تم بھی جانے والے ہو”…”معاملہ سیٹل کر لیتے ہیں نہ”.امجد شاہ نے کہا "اچھا آپکو یہ مناسب لگتا ہے تو یہی صحیح”.شہریار یہ کہ کر کرسی پے بیٹھ گیا اور امجد شاہ کو بھی بیٹھنے کا کہا تو وہ بھی بیٹھ گیا لیکن امجد شاہ کے تمام بندے ابھی بھی شہریار کے بندوں کے نشانے پے تھے.” ہاں بھئی کتنا دو گے یہ سب مال چھوڑنے کے بدلے میں؟”…”پانچ لاکھ”شہریار ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا..”پانچ لاکھ تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا یہ سب مال آٹھ کروڑ کا ہے اور اسکے بدلے میں تم مجھے صرف پانچ لاکھ دے رہے ہو یہاں کوئی مذاق چل رہا ہے کیا.”شہریار کی ہنسی اب بند ہو گئی تھی ..”پھر تم کتنا لو گے؟”…”پچاس لاکھ سے ایک روپیہ کم نہیں لینے والا میں”….”پچاس لاکھ” امجد شاہ حیرت بھرے انداز میں چیخا”….”ہاں پچاس لاکھ”..”میں اتنے نہیں دے سکتا”…”اور میں اس سے کم نہیں لے سکتا”….”افففف کیا مصیبت ہے”.”کام کی بات کرو مصیبت وغیرہ کو چھوڑو” …”ٹھیک ہے میں تمارے اکاؤنٹ میں پچاس لاکھ ٹرانسفر کر دیتا ہوں”….”نہیں اکاؤنٹ میں نہیں تم ابھی دو پچاس لاکھ کیش "….” میں اس وقت کیش کہاں سے لا سکتا ہوں”..”تمھیں کہیں سے بھی نہیں لانا میں سو فیصد یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اس وقت بھی تمہارے گودام میں کروڑوں روپے پڑے ہوں گے اور تم انہی میں سے مجھے پچاس لاکھ نکال کر دو گے”…”ٹھیک ہے تم میرے ایک آدمی کو چھوڑو وہ ابھی گودام کے اندرونی حصّے سے پیسے لے آئے گا”….”وہ اکیلا نہیں جائے گا میری طرف سے بھی ایک بندا اسکے ساتھ جائے گا”….”ٹھیک ہے بھیج دو”امجد شاہ نے منہ بنا کر کہا اور اپنے ایک بندے کو پیسے لانے کا کہا اسکے ساتھ ساتھ شہریار کا بھی ایک بندا اندر چلا گیا کچھ دیر بعد وہ واپس آئے تو شہریار کے ساتھی کے ہاتھ میں ایک بڑا بریف کیس تھا جو اس نے شہریار کی طرف اچھال دیا شہریار نے بریف کیس کھولا اور وہیں بیٹھے بیٹھے تمام پیسے گنے وہ پورے پچاس لاکھ تھے نہ ایک روپیہ زیادہ نہ ایک کم ..”چلو لیکن چلنے سے پہلے ان لوگوں کے ہتھیار وغیرہ اپنے قبضے میں لے لو”شہریار کے کہنے پے اسکے ساتھیوں نے امجد شاہ سمیت سب کے ہتھیار اپنے قبضے میں لے لئے.
"اللّه حافظ مائی ڈیئر امجد شاہ زندگی رہی تو جلد ملاقات ہوگی "…” تم جیسے کمینے انسان سے دوبارہ ملاقات نہ ہی ہو تو بہتر ہے پہلی ملاقات میں ہی تم نے پچاس لکھ لے لئے اگر تم سے مزید ملاقاتیں کیں تو مجھے کنگال کر دو گے”….”اچھا چلو پھر ملتے ہیں خدا حافظ.”یہ کہ کر شہریار نے امجد شاہ سے ہاتھ ملایا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسکے گودام سے باہر نکل گیا انکے جانے کے بعد امجد شاہ اپنا سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا اور کیوں نہ بیٹھتا اسکا پچاس لاکھ کا نقصان ہو گیا تھا .
****************************************************
(جاری ہے)


