منتخب غزلیں

حیا پر شاعری ………… جواں ہونے لگے جب وہ تو ہ…

حیا پر شاعری
…………
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
امیر مینائی
…..
برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے
حسرتؔ موہانی
……
غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
مرزا غالب
……
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
علامہ اقبال
……
حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے
نامعلوم
……
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
اکبر الہ آبادی
عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی
اکبر الہ آبادی
……
کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
بیخود بدایونی
……
کیسی حیا کہاں کی وفا پاس خلق کیا
ہاں یہ سہی کہ آپ کو آنا یہاں نہ تھا
انور دہلوی
…..
او وصل میں منہ چھپانے والے
یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا
حسن بریلوی
……
شکر پردے ہی میں اس بت کو حیا نے رکھا
ورنہ ایمان گیا ہی تھا خدا نے رکھا
شیخ ابراہیم ذوقؔ
……
تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف
آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ
جلیلؔ مانک پوری
….
ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے
اختر شیرانی
….
آنکھوں میں حیا آجاتی ھے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
وہ مجھ پہ ستم جب کرتے ھیں تصویر_کرم بن جاتے ھیں
مولانا حسرت موہانی
……
حیا آمیز ہے طرزِ تغافل
ستم میں بھی ادا ہے کس قسم کی
کبھی ہوں اس گلی میں نقش دیوار
کبھی اس بزم میں تصویر غم کی
نواب داغ
….
تھرتھراہٹ حیا کی اس رخ پر
رقص نیرنگیٔ صبا کہیے
مہیش چندر نقش
·
#Lafz


Related Articles

7 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/