منتخب غزلیں
گجرات کے آس پاس اور چناب کے کناروں پر رہنے والوں ک…

گجرات کے آس پاس اور چناب کے کناروں پر رہنے والوں کے لئے "میٹھا” ایک مذہب ہے
ایک زمانے میں باراتیوں کی تواضح سب سے پہلے گھی سے نچڑتے ہوئے حلوے سے کی جاتی تھی اور پھر پلاؤ پیش کر کے ان کا منہ نمکین کیا جاتا تھا
اسی گجرات میں کوئی انگریزی ڈپٹی کمشنر صاحب آیا تو کسان نے اس کی نہایت سفید رنگت دیکھ کر بے حد حیران ہوئے
پوچھا گیا کہ صاحب کو کتنی تنخواہ ملتی ہے ؟ بتایا گیا کہ پورے سو روپے ملتی ہے
تو انہوں نے اپنی پگڑیاں درست کر کے کہا
تبھی … سو روپے کا گڑ کھاتا ہو گا تبھی اتنا سفید ہے
ایک زمانے میں باراتیوں کی تواضح سب سے پہلے گھی سے نچڑتے ہوئے حلوے سے کی جاتی تھی اور پھر پلاؤ پیش کر کے ان کا منہ نمکین کیا جاتا تھا
اسی گجرات میں کوئی انگریزی ڈپٹی کمشنر صاحب آیا تو کسان نے اس کی نہایت سفید رنگت دیکھ کر بے حد حیران ہوئے
پوچھا گیا کہ صاحب کو کتنی تنخواہ ملتی ہے ؟ بتایا گیا کہ پورے سو روپے ملتی ہے
تو انہوں نے اپنی پگڑیاں درست کر کے کہا
تبھی … سو روپے کا گڑ کھاتا ہو گا تبھی اتنا سفید ہے
مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے "دیو سائی ” سے اقتباس


