مرحوم لیاقت علی عاصم صاحب کے چند متفرق اشعار مُجھ…
مُجھے مناؤ نہیں ! میرا مَسئلہ سمجھو
خفا نہیں ! میں پریشان ہوں زمانے سے
–
چَھٹتے چَھٹتے بھی اِسے عُمر لگے گی عاصم
یہ کوئی بِھیڑ نہیں ! مجمعِ تنہائی ہے
–
کیسا ہجومِ کوچۂ تنہائی تھا کہ میں
آگے بڑھا نہ دست و گریباں ہوئے بغیر
–
آج کیوں جِی میں یہ آتا ہے کہ سب سے مِلیے
کل کہیں شہر سے جانے کا اِرادہ بهی نہیں
–
آپ اپنے سے کَہاں تک کوئی لڑ سکتا ہے؟
میرے دشمن مِرے احباب کَہاں ہیں جانے؟
–
شام کے سائے میں جیسے پیڑ کا سایا ملے
میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی
–
دُور تک ساتھ چَلا ایک سگِ آوارہ
آج تنہائی کی اوقات پہ رونا آیا
–
حادثے ہو رہے ہیں، ہونے دو
میں بہت تھک گیا ہوں سونے دو
–
اکیلے پن سے خوف آتا ہے مجھ کو
کہاں ہو اے مرے خوابو خیالو
–
میں سَمجھا میں ڈُوب گیا
عکس گِرا تھا پانی میں
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


شام کے سائے میں جیسے پیڑ کا سایا ملے
میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی۔۔۔۔۔!!!
♥️????♥️
Buhat umda ashaar
ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
(لیاقت علی عاصم)
دعا کو بے اثر جانا ہے آخر
بہت جی کر بھی مرجانا ہے آخر
لیاقت علی عاصم