منتخب غزلیں

چشمِ تر سے آنسوؤں نے رواں ہونا ہی تھا آخر اس چشمے …

چشمِ تر سے آنسوؤں نے رواں ہونا ہی تھا
آخر اس چشمے نے اک دن بیکراں ہونا ہی تھا
دو قدم ہی چل کے دھوکا دے گیا ہم سفر
راہِ منزل نے بھی تو پھر بے نشاں ہونا ہی تھا

کر لیا جب خود غرض لوگوں پہ اندھا اعتماد
پھر مِری قربانیوں نے رائیگاں ہونا ہی تھا
خود ہی میری خوبیوں کو خامیوں میں ڈھال کر
اس بہانے اس نے مجھ سے بدگماں ہونا ہی تھا
وقت کی مجبوریوں نے جب زباں کھلنے نہ دی
حالِ دل نمناک آنکھوں سے عیاں ہونا ہی تھا
یاس و رنج و غم عطا ہوتے نہ کیوں ارشادؔ کو
اس نے میری بے بسی پر مہرباں ہونا ہی تھا

ارشاد جالندھری


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/