منتخب غزلیں
سیّد مُبارک شاہ کا یومِ وفات June 27, 2015 آدم ک…

سیّد مُبارک شاہ کا یومِ وفات
June 27, 2015
آدم کی کسی رُوپ میں تحقیر نہ کرنا
پِھرتا ہے زمانے میں خُدا بھیس بدل کے
……
جاگیے، دیوار جاں کو چاٹیے، سو جائیے
عمر کی یکسانیت سے زندگی اکتا گئی
…..
بڑی لذتیں ہیں گناہ میں جو نہ کیجئے
جو نہ پیجئے تو عجب نشہ ہے شراب میں
…..
یہ ہر دن تھوڑا تھوڑا مَرنے کا تکلف کیا
یہ کام ایک روز بہتر ھے کہ سارا کر لیا جائے
…..
سینے سے اُٹھ رہا ھے تعفن عجیب سا
مَیں دفن بھی نہ کر سکا میت ضمیر کی
….
ہر ایک ذرہ بچا کے رکھنا کہ جانے کس دن
زمین مٹی کی واپسی کا سوال کر دے
…..
سیّد مُبارک شاہ


