منتخب غزلیں
بے پَر کی جب سے لوگ اُڑانے میں لگ گئے : عمران عامیؔ

بے پَر کی جب سے لوگ اُڑانے میں لگ گئے
ہم بھی ہَوا کا ہاتھ بٹانے میں لگ گئے
خواجہ سرا نے رات ‘ وہ خواجہ سرائی کی
شاہ و گدا بھی ناچنے گانے میں لگ گئے
اِس دشت کو چراغ نہیں پھول چاہیں
اور آپ ہیں کہ خاک اڑانے میں لگ گئے
سورج کے پاس بیٹھ گئی کیا دیے کی لَو
سیّارگاں تو حشر اٹھانے میں لگ گئے
اِن مفتیانِ شہر سے جب کچھ نہيں بنا
لوگوں کو دِین دار بنانے میں لگ گئے
کل رات آسمان پر اِک حادثہ ہُوا
اور ہم زمیں کے بھاؤ بڑھانے میں لگ گئے
پانی سے اِک چراغ جلانےکی چاہ میں
کچھ لوگ اپنے خواب، بجھانے میں لگ گئے


