منتخب غزلیں
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر…

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
ادا جعفری کی پیدائش
Aug 22, 1924
ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی ۔وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ 12 مارچ، 2015ء کو آپ کا انتقال ہو گیا
..
ہمیں خود سے بھی ملنا تھا کسی ہمراز سے پہلے
کوئی آواز سننا تھی،کسی آواز سے پہلے
یہ جو بیساختہ پن ہے یہی تو اصل راحت ہے
پروں کو دیکھنا واجب نہیں پرواز سے پہلے
ابھی تو خواب چہرے سب دعا کی رہگزر میں تھے
کہانی ختم کیسے ہو گئی آ غاز سے پہلے
….
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمہحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں صبح ، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس راہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنّا
کام آئے تو پھر جذبئہِ نام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے
………………
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
ادا جعفری کی پیدائش
Aug 22, 1924
ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی ۔وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ 12 مارچ، 2015ء کو آپ کا انتقال ہو گیا
..
ہمیں خود سے بھی ملنا تھا کسی ہمراز سے پہلے
کوئی آواز سننا تھی،کسی آواز سے پہلے
یہ جو بیساختہ پن ہے یہی تو اصل راحت ہے
پروں کو دیکھنا واجب نہیں پرواز سے پہلے
ابھی تو خواب چہرے سب دعا کی رہگزر میں تھے
کہانی ختم کیسے ہو گئی آ غاز سے پہلے
….
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمہحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں صبح ، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس راہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنّا
کام آئے تو پھر جذبئہِ نام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی
دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے
………………



