منتخب غزلیں
جو فریب میں نے کھایا تجھے رازداں سمجھ کر اُسے کیس…
جو فریب میں نے کھایا تجھے رازداں سمجھ کر
اُسے کیسے بھول جاؤں؟ اک داستاں سمجھ کر
نہ مٹاؤ ٹھوکروں سے یہ مزار ہے کسی کا
ذرا رحم کر خدارا اِسے اِک نشاں سمجھ کر
ارے او جلانے والے یہ ترا ہی تھا نشیمن
جسے تو نے پھینک ڈالا میرا آشیاں سمجھ کر
نہ بجھا چراغ ظالم ابھی دُور ہے سویرا
کہیں لو لپٹ نہ جائے تجھے بدگماں سمجھ کر
… More

