منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) کسی پاتال کے جَل سے نہا کر ‘…

( غیــر مطبــوعــہ )

کسی پاتال کے جَل سے نہا کر ‘ مَیں نکل آیا
پہاڑی کے عقب سے جگمگا کر ‘ مَیں نکل آیا

مَیں عکس ِ لمحــۂ نم ساز تھا ‘ کب تک کِھلا رہتا
پلک بھر آئنے میں لہلہا کر ‘ مَیں نکل آیا

سر و سامان ِ خواہش کی وہاں کس کو ضرورت تھی
مِرا اَندوختہ تھا ‘ سو ۔۔ اُٹھا کر مَیں نکل آیا

ٹھہَــر جاتا تو شاخ ِ جبر کو دُو لخت کر دیتا
عتاب آنے سے پہلے ‘ مُسکرا کر مَیں نکل آیا

کنارے کی کشِش مجھ پر ‘ ضرورت سے زیادہ تھی
بھنور کے پیچ و خَم سے ۔۔۔ پیچ کھا کر مَیں نکل آیا

گذر گاہ ِ تعلُّق میں نِگہ داری بَلا کی تھی
کسی لمحے کو باتوں میں لگا کر ‘ مَیں نکل آیا

( شـــہزادؔ اطہـــر )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/