منتخب غزلیں

’’وامق ٹیڑھے تھے،اس بات کو انہوں نے اپنی زندگی میں…

’’وامق ٹیڑھے تھے،اس بات کو انہوں نے اپنی زندگی میں ثابت کردیا۔وہ ڈپٹی کلکٹر تھے اور ایسے پکے اپنے اصولوں کے تھے کہ بہت کم لوگ اس زمانے میں ایسے ڈپٹی کلکٹر تھے،انہوں نے اپنی نوکری ترک کردی،استعفی دے دیا اور کہتے رہے:
چاکری کرتے ہوئے بھی ہم رہے آزادرو
دست و پائے شوق میں تھی وہ توانائی کہ بس
وامق صاحب کو میں پہلی بار دور اندھیرے میں دیکھا،گورا چٹا خوبصورت ناک نقش،اس وقت بہت کم روشنی میں بلند ،دل چیر دینے والی آواز آرہی تھی کہ:
بھوکا ہے بنگال ہمارا،بھوکا ہے بنگال۔۔۔
ان کی یہ نظم گہرے مشاہدے پر تھی ۔خبر ملی کہ بنگال میں بھوک مری مسلط ہے۔انہوں نے ٹکٹ کروایا اور بنگال پہنچے اور وہاں جو حال دیکھا اس کو انہوں نے اپنے قلم سے من و عن پیش کر دیا۔
اسی طرح گاندھی جی کے قتل پر نظم’’میر کارواں‘‘ جس Challenge کے ساتھ لکھی گئی ہے وہ آج بھی ان پر لکھی ہوئی مختلف زبانوں کی نظموں میں سب سے بہتر ہے۔خاص طور پر گاندھی جی کے قتل کے بعد میں نے ہندی میں کوئی ایسی نظم نہیں دیکھی۔
سچے حرفوں میں کہوں تو ان میں People Facts کی خاصیت دکھائی دیتی ہے۔جس طرح مخدوم حیدرآباد کے لئے خاص ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ ہمیں اپنی زمین،اپنی دھرتی سے جڑائو ہے تو مخدوم کی طرح ہی ہم لوگوں کے لیے وامق انمول ہیں۔وامق کی نظمیں اور غزلیں ایک آگ ہیں،آج کے زمانے میں جس کو جلانے کی بہت ضرورت ہے۔جس سے ہمیں روشنی بھی ملے گی اور ٹھنڈے پرے دلوں کو گرمی بھی ملےگی‘‘
.
پروفیسرنامور سنگھ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/