مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 17 اس کو دیکھ ک…

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 17

اس کو دیکھ کر وہ پُرسکون ہوگئی اور اپنے آنکھیں بند کی لیکن جھٹکا لگا وہ کیسے اندر آیا
"کیا ہوا ؟۔”
زُلنین نے اسے آنکھیں بند کر کے دیکھا اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ چکے تھے
"کچھ نہیں بُرا خواب دیکھا تھا ڈر گئی آپ کیسے آئے۔”
وہ نرمی سے مسکرایا اور جلدی سے اُٹھ کر تھوڑے فاصلے پہ کھڑا ہوگیا
"بھول گئی محترمہ نے مجھے خود چابی پیش کی تھی ۔”
ہما نے سر ہلایا جیسے اب یاد آیا ہوں کے واقی اس نے چابی زُلنین کو دیں تھی امیرجینسی کے لیے
"اس وقت کیسے آنا ہوا !”
وہ اپنی شال اپنے گرد لپیٹے ہوئے اسے دیکھنے لگی
"نماز کے لیے جارہا تھا پہلے سوچا حاضری لگا لو کے آیا اُٹھی ہوں یا سورہی ہوں بیل پہ کوئی جواب نہیں دیا پتا نہیں مجھے عجیب سے پریشانی محسوس ہوئی تو بس آگیا ۔”
اس نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی اور ہما نے پوچھی بھی نہیں بس سر ہلا دیا
"مسجد کا ٹائیم گزر گیا ہے نیچے پڑھ لے ۔”
وہ کہتے ہوئے اُٹھی
"ٹھیک ہے لیکن اب ٹھیک ہونا !!”
وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا
"میں ٹھیک ہوں ۔”
ہما نے دھیمی سے مسکراہٹ سے کہا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی
نماز پڑھنے کے بعد دیکھا صبح کا وقت ہوچکا تھا ہلکی ہلکی روشنی میرے کمرے میں آنے لگی نانو کو گئے ہوئے دو دن ہوچکے تھے یہ سوچتے ہما کی آنکھوں میں آنسو آگئے اتنا دُکھ تو ماما کا بھی نہیں تھا جتنا نانو کو ہوا وہ کیوں چلی گئی ایسے جائے نماز پہ بیٹھے ہاتھوں میں تسبی پکڑیں آنسو بہا رہی تھی جب سائڈ پہ کافی کا کپ رکھا گیا میں چونکئ یہ گیا نہیں ابھی تک وہ بھی زمین کے بل ہما سے تھوڑے فاصلے پہ بیٹھ گیا اس کا دل پگھل رہا ہے یہ شخص کتنا پیارا اس کی ساری پیاری حرکتوں میں سے سب سے زیادہ اس کا احترام اور عزت سے پیش آنا تھا تنہائی کے باوجود اس نے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا کیا ایسی نیکی دُنیا میں پائی جاتی ہے شاہد ہاں
"زیادہ سوچنا زہن کو الجھاتا ہے ۔”
نرمی سے کہا گیا فقرہ ہما کو گہرا سانس لینے پہ مجبور کیا
"سوچتی کہاں ہوں سوچ خودبخود آجاتی ہے ۔”
وہ کپ کو اُٹھانےلگی
"اتنا بھی انڈیپنڈنٹ نہیں ہے آپ کا دماغ جو جب دل کریں اپنی مرضی سے کریں دل اور دماغ ہمارے اپنے کنڑول میں ہے ہاں کچھ فنکشن پہ ہمارا کوئی رول نہیں ۔”
"آپ تو کہی سے ایس پی نہیں لگتے ایک ماہر نفسیات معلوم ہوتے ہیں ۔”
اس نے نظریں اُٹھائی اور زُلنین کی بلیو آنکھوں میں دیکھا
"نفسیات کو سمجھنا کوئی مشکل کام تو نہیں ہے اور آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔”
"لیکن میں خاصی ڈم ہوں مجھے نہیں پتا کچھ بھی ۔”
"اُف ایک تو انسانوں کی عادتیں اتنا انڈراسٹیمیٹ کیوں کرتی ہے خود کو دوسری کی باتوں میں اتنا بھی ڈیپلی نہیں لینا چاہئیے اچھی بات ہے کسی کے اچھے مشورے پہ عمل کرنا لیکن اپنا دماغ بھی استمعال کریں وہ کیا کہتے ہیں سُنو سب کی لیکن کرو من کئ اور ڈم کہاں سے او پلیز کم سے کم سٹنفورڈ کے ٹاپ یونی ورسٹی سے سکولرشپ کوئی ڈم لڑکی نہیں لیتی ۔”
وہ بہت ہی اچھا سپیکر تھا
"لیکن میں پڑھ کہاں رہی ہوں فارغ ہی تو بیٹھی ہوں ۔”
"ہاں وہ تم نے خود کو فارغ کیوں رہنے دیا ہے چاہو تو بہت کچھ کرسکتی ہوں ۔”
"میں ہارر ناول لکھنے کا۔۔
ایک دم کہتے کہتے رُک گئی اور زُلنین ہولے سے ہنس پڑا
"ابھی ڈر گئی تھی خواب سے ناول لکھو گی ۔”
وہ مزاق کرتے ہوئے بولا تاکہ اس کا دل تھوڑا سا ہلکہ ہوجائے
"اب کسی چیز کا دل ہی نہیں کرتا ۔”
وہ بالکل رونے والی ہوگئی نانو کے بعد اس کو بہت زیادہ رونا آرہا تھا حالانکہ وہ روندی روح ہرگز نہ تھی لیکن پتا نہیں کیوں شاہد تنہائی کا احساس
"ہما بڑیو بنا پڑیں گا ، یہ دُنیا بہت مشکل ہے تم کمزور پڑو گی تو اور مشکل بن جائے گی ۔”
وہ اپنے گیلے گال صاف کرنے لگی
"تمھیں پتا ہے میں نے کہی سُنا تھا یا شاہد پڑھا تھا
کے آپ کا کوئی اپنا مرتا ہے تو آپ کو اس کے مرنے کا دُکھ نہیں ہوتا بلکہ آپ اپنے اکیلے ہوں جانے کا غم مناتے ہیں کے وہ ہمیں اکیلا اس دُنیا میں کیوں چھوڑ گئے ان کی بغیر کیا کریں گئے ،وہی بات ہے مجھے ان کے مرنے سے زیادہ اپنے اکیلے ہونے کا رنج ہے اور اگر نانو ابھی میرے سامنے آجائے تو کہی گی تم تو تنہا رہنے کی عادی ہوں تمھیں کب سے کسی کئ ضرورت محسوس ہوئی اب کیا بتاو جتنا مجھے لوگوں کے درمیان اُٹھنا بیٹھنا کھل کر زندگی جینا مستی کرنا دوستیں بنانا ہنسی مزاق کرنا ناکہ ایک کمرے میں بیٹھ کر ناولز اور مویز دیکھنا اور اپنا پڑھنا بس تنہائی میری مجبوری تھی اور شاہد اب تو نصیب میں لکھ دی گئئ ہے ۔”
وہ آج اعتراف ایسے شخص کررہی تھی جس سے ملاقات ہوئے وئے صرف چند دن ہوئے تھے پتا نہیں اس شخص میں ایسا کیا تھا جس کے سامنے وہ اپنا آپ کھول بیٹھی تھی جو ایک خول میں بند کیا گیا تھا
"او ہو بس اتنی سی خواہش مس برڈی آپ کی پہلی خواہش تو پوری کرچکا ہوں میں آپ کا زبردستی دوست بن کر باقی تو ایک دن کی بات ہے لیکن میں چاہوں گا آپ آہستہ آہستہ انجوائی کریں تب تک کے لیے ناشتہ نہ کر لے قسم سے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ۔”
وہ کپ رکھتے ہوئے بولا مقصد صرف ہما کو کھلانے کا تھا جس نے واقی دو دن سے ایک نوالہ اپنے اندر نہیں ڈالا
"کوفی کافی نہیں ہے ایس پی صاحب ۔”
ہما آہستہ سے بولی
"لو جی محترمہ کو نہیں پتا ہم پاکستانی پولیس آفسر کتنا کھاتے ہیں ۔”
وہ اُٹھتے ہوئے بولا
اور وہ ابھی تک بیٹھی رہی اب اس کی ٹانگیں بھی آکڑ رہی تھی زیادہ دیر بیٹھنے سے اس سے اُٹھنا تھوڑا مشکل ہوگیا لیکن بہرحال اُٹھ پڑی
????????????????????????????????????
"آپ فرانس کیوں جارہے ہیں ۔”
فائیق فائل پہ مصروف تھا جب اچانک جزلان اندر آتے ہوئے بولا
"بغیر پوچھے میری پرآئیویٹ سپاٹ میں مت آیا کرو ۔”
کرختگی سے کہا گیا جواب نے جزلان کو تیش دلایا
"چاچو اگر زُلنین کو پتا چلا ۔۔۔۔آپ نے آخر ایسا کیوں کیا ۔”
"کیا کیا ہے میں نے ۔”
فائیق کے لہجے میں زرا بھی نرمی شامل نہیں تھی
"آپ نے مارا ہے نا ۔”
"کس کو مارا ہے ۔”
وہ فائل پٹھک کر اُٹھا
"طاہرہ آنٹی کو !”
فائیق ایک دم رُک گیا بلکہ رُک نہیں گیا وہ تو ساکت ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا
"کس کو مارا ہے ۔”
وہ جیسے کنفرم کرنا چارہا تھا اس کے بےحد عجیب لہجے پہ جزلان زرا سا بھی نہیں چونکہ
"پلیز چاچو بس کردیں آپ کا عشق آپ کو گہری کھائی میں پھینکے گا اپنے عشق کو اپنے لیے سگیرٹ کے مانند نہ کریں جو رفتہ رفتہ آپ کو اندر سے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی ختم کردیں۔ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں چاچو بس کردیں اگر دادا ابا کو پتا چلا کے اب آپ کے ہاتھوں ساتواں قتل ہوا ہے تو ان کی عزت جو زُلنین نے قائم کی ہے اسے ختم نہ کریں ہمارا خاندان
"تم اپنی بکواس بند کرو گے ۔”
وہی دھاڑ جو پورے گھر کو ہلا دیتی تھی اور نفرت اور شعلے سے بھری نظریں ۔جزلان خائف ہوئے بغیر بولا
"میں تو کردوں گا چاچو لیکن ہمارے جنز نہیں کریں گئے جو پہلے بھی آپ کے بارے میں بولتے تھے مزید بولے گئے
خیر آپ کے مرضی اچھا ہے چلے جائے فرانس آپ کے لیے بھی بہتر ہے اور ہم سب کے لیے بھی ۔”
وہ کہتے ہوئے چلا گیا اور فائیق کی نظر شفق پہ پڑی جیسے اس کی آنکھیں فائیق سے شکوہ بلکہ شکوہ نہیں نفرت کا اظہار کررہی تھی اور فائیق کی حالت عجیب ہوگئی وہ تیزی سے اُٹھا
????????????????????????????????
"اس سے اچھا تھا میں گھر پہ ہی ناشتہ کھا لیتا میں یہاں کمپنی کے لیے آیا تھا ہما ۔”
ہما کو مسلسل خاموش دیکھ کر وہ جنجھلاتے ہوئے ناشتے کی ٹیبل کے چیر ڈریگ کر کے بیٹھتے ہوئے بولا
"کمپنی تو یہاں نہیں ہے زُلنین شہر میں مل جائے گی نوکری ۔”
وہ سنجیدگی سے کیٹل اُٹھاتے ہوئے کہنے لگی
"میرا سٹائل مت کاپی کریں آپ اچھا !”
وہ منہ بناتے ہوئے بولا
"مجھے باندروں کا سٹائل کاپی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیا لیے گئے نٹیلا یا پینٹ بٹر؟”
"لے لو گا آجاو اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے کام پہ جانا ہے میں بس تمھیں دیکھنے آیا تھا کوئی آیا نہیں تمھارا پوچھنے ۔”
وہ بھی اب سنجیدگی سے کہنے لگا وہ اسے اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن اسے نانو کے قاتل کا پتا لگانا تھا اور ہما اکیلے کم سے کم رہ نہیں سکتی تھی منہ سے بولے گی نہیں لیکن دل ابھی بہت ٹوٹا اور خوف سے بھرا ہوا تھا
"کون آئے گا زُلنین ؟مری آئے ہمیں ہفتے سے زیادہ نہیں ہوا تھا اور اتنا سب کچھ ہوگیا ملاقات تو آپ کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ہوئی ہاں ماما کی دوست تھی اور ان کی بیٹی وہ بھی بچاری اپنے چکروں میں اسلام آباد
اس سے بہتر تو میں امریکہ میں تھی کم سے کم وہاں کوئی تو تھا ۔”
"یانی تمھارے پاپا مجھے سمجھ نہیں آتی کوئی باپ اتنا بے حس کیسے ہوسکتا ایسا نہیں ہوسکتا اور ان کا پتا نہ ہوں ۔”
وہ اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جو ابھی تک ڈوپٹے کے ہالے میں تھا اور زُلنین بتا نہیں سکتا تھا وہ اس میں کتنی خوبصورت لگ رہی ہے
"چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں انھیں پتا ہوں یا نہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اب کس کس سے شکوہ کروں مرنے والے نے پروا کی میری جو زندہ والے کریں ۔”
وہ عجیب و غریب بات کررہی تھی
"ارے کیا بول رہی ہو مرنے والوں کو خود شوق ہوتا ہے بھلا کوئی شوق سے کھبی نہیں مرتا ہما ہاں سوسائڈ والی بات ہوتی تو میں تمھاری بات سمجھتا لیکن کیا تمھاری ماما اور نانو نے سوسئیاڈ کیا یہ ان کا وقت تھا ان کے رول دُنیا سے ختم ہوچکا تھا اور ہمیں اللّٰلہ کی مرضی میں ٹانگ نہیں اُڑانی چاہیے ۔”
وہ پھر رونے والی ہوگئی اور زُلنین کو سمجھ آرہی تھئ یہ اس کے بس میں نہیں ہے جبھی تو وہ بار بار پریشان ہورہی ہے گھبڑا رہی ہے اس کے بس میں ہوتا تو وہ کھبی کسی کے سامنے نہ روتی نہ اپنے جزبات کا اظہار کرتی یا شاہد بہت جلدی سنبھل جاتی لیکن ابھی زخم بہت گہرے تھے اور خاصے تازہ
"اللّٰلہ تعالی نے ٹھیک نہیں کیا میرے ساتھ نانو کی جگہ مجھے اپنے پاس بلا لیتے ۔”
وہ اپنے آنکھیں مسلتے ہوئے بھرائی آواز میں بولی
"پھر فضول بکواس منع کیا ہے ایسے نہیں کہتے ایک تو انسانوں کی سمجھ نہیں آتی ہر چیز کو اللّٰلہ پہ کیوں بلیم کرتے ہیں بھئی اس کی چیز ہے اس کی تخلیق ہوئی مخلوق جب چائیے اس دُنیا میں بھیج دیں جب چائیے اپنے پاس بلا لیے ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے اس لیے ہما دوبارہ ایسے مت کہنا ۔”
وہ تنبیہ لہجے میں اسے دیکھنے لگا اور ہما سُرخ آنکھوں سے گھورنے لگی
"اچھا بس بھی کرو اس سے تم زیادہ اچھے اور میں بُری محسوس ہوگئی ۔”
وہ شرمندگی سے جوس کا ڈبہ رکھتے ہوئے بولی
"یہ پھر آپ کی سوچ ہے مس ہما ۔”
زُلنین جوس کا گلاس اُٹھاتے ہوئے بولا
"ایسا لگتا ہے نانو نے آپ کی بھر پور ٹرینگ کی ہے اگر وہ آپ سے مل لیتی تو آپ کی دیوانی ہوجاتی یا اپنا بیٹا ہی بنا لیتی لیکن اب کیا کہہ سکتے ہیں ۔”
وہ جیسے بہت مایوس ہوئی تھی
"کوئی نہیں اگر مجھ غریب کو اگر جنت نصیب ہوگئی تو ضرور مل لو گا ان سے ۔”
وہ ہولے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا
وہ دوسری طرف بیٹھتے ہوئے اس دیکھنے لگی
"کیوں نہیں ہوگی اتنے نیک تو ہیں آپ ۔”
"پتا نہیں !”
وہ ہما کو نہیں دیکھ رہا
"اچھا یہ بتائیں ایسا تو نہیں ہوسکتا کے آپ کے رشتے دار ہی نہ ہوں کوئی تو ہوگا میری تو ماما خیر اکلوتی تو اور بابا بھی پھر بھی بابا کے کزن اور رشتے دار وغیرہ تھے ماما کا تو تھا ہی کوئی نہیں نانا اور نانو بھی اکلوتے تھے اور فنی بات میں بھی اکلوتی ہوں ۔”
وہ اپنی بریڈ پہ سپریڈ لگائے سر جکھاتے ہوئے بولی
"فارغ رہو گی تو واقی پاگل ہوجانا ہے لگتا ہے بہت سارے کام پہ لگانا پڑیں گا ۔”
"نوکری تو ملنے سے رہی مجھ کو کوئی ڈگری ہی نہیں ہے میرے پاس ۔”
"ڈگری ایک فارمیلٹی ہے عقل کی ضرورت ہوتی ہے کام کے لیے اور وہ تھوڑا بہت ہے آپ کے پاس ۔”
وہ شرارت سے مسکرایا
"یہ آپ جب میرا مزاق بنارہی ہوتے ہیں تو آپ جناب کیوں خطاب کرنے لگ جاتے ہیں ۔”
"عزت اور مزاق کو ساتھ لیکر چلے گے تو بہت کم آپ کی بات بُری لگے گی ۔”
"ویسے جتنے لیکچر آپ مجھے دیں چکے ہیں اتنے آپ نے اپنے مجرم کو دیتے نا تو صحیح نیک ہوجانا تھا انہوں نے ۔”
وہ ہنس پڑا
"اس کی نوبت ہی نہیں آتی جیل کی ہوا لگتی ہی صراطِ مستقیم بن جاتے ہیں ۔”
"ہیں !!”
وہ رُک کر اسے دیکھنے لگی جو اب پلیٹ خالی کرچکا تھا ابھی تو اس نے شروع کیا تھا
"بہت کام کرنے ہے تمھارے پہلے تو یہ کے لائیسنس بناوانا ہے پھر یہ انٹیق سی گاڑی آپ کے استمعال میں لانی ہے پھر جاب سے پہلے آپ کے ڈریسس کی شاپنگ کریں گئے ۔”
"کیوں کیا ہوا میرے کپڑوں کو ۔”
گھوری زُلنین کی طرف اچھالی گئی وہ مسکراہٹ دبانے لگا
"بس ایسی ہی میں چاہتا ہوں ہما صاحبہ مشرقی کپڑے پہنے پتا نہیں کیوں آپ کو یہ شلوار قمیض بہت سوٹ کی ہے ۔”
"ہاں یہ تو ہے نانو کو بہت شوق تھا جب کھبی عید آتی تو شوق سے میرے لیے بنواتی اور زبردستی پہناتی وہ کہتی میرا حُسن اسی ڈریس میں نظر آتا ہے خیر مجھے پتا ہے ۔۔۔”
"اچھا اچھا اب دُکھی امداد حُسین نہ بن جانا میں لیٹ ہورہا ہوں ایک کام کرو جلدی تیار ہوں میرے ساتھ پولیس سٹیشن چلو۔”
وہ اُٹھتے ہوئے بولا
"خود بولتے رہتے ہیں میری باری آئی تو چُپ کروادیا اور پولیس سٹیشن کیوں زُلنین ابھی میں کہی نکلنا نہیں چاہتی اوپر سے لوگ کیا سوچے گئے نانی کے مرنے کا انتظار تھا اور اپنے عاشق کے ساتھ گھومنے پھرنے لگی ۔”
وہ پہلے دیکھتا رہا پھر ہنسنے لگا
"کون لوگ ؟ جو افسوس کرنے تک نہیں آئے ان کی بات کررہی ہو اور کوئی آیا ہے تمھارے پاس میرے سوا کے تم اکیلے کیسے رہے رہی ہوگئ تم نے کھایا ہے کے نہیں اکیلے سو تو جاو گی اس ویرانے میں اچھا نانو کا غم میں جانتا ہوں بہت بڑا اور مجھ سے زیادہ تمھاری فیلنگز کوئی نہیں سمجھ سکتا لیکن اب مو آن تو کرنا ہے کیونکہ یہی دُنیا کا دستور ہے ، ٹھیک ہے غم منانے کے لیے اسلام نے تین دن دیں ہیں جو کے آج کا دن ہے جتنے چاہیے آنسو بھا ڈالو لیکن چلوں میرے ساتھ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا ان کو کرنے دوں ہم بھی کر لے گئے ٹھیک ہے حساب برابر !”
ہما نے سر ہلایا اور آنسو کو زبردستی روکا واقی اچھے انسان اس دُنیا میں پائے جاتے ہیں زُلنین کو دیکھ کر اسے پتا چلا تھا
????????????????????????????????????
"آپ کا پولیس سٹیشن کہاں ہے ۔”
ڈھونڈنے پر بھی اسے کوئی سادہ سی شلوار قمیض نہیں ملی تو نہ چارہ اسے ریڈ لمبی سویٹر کے ساتھ بلیک کوٹ اور بلیک پینٹ پہن کر آگئی زُلنین کو وہ پھر بھی اچھی لگ رہی تھی
"زیادہ دور نہیں ہے یار اور گھبڑا کیوں رہی ہوں ایسے ڈر رہی ہوں جیسے جیل بجھوا دوں گا ۔”
"میں بھلا آپ سے اور جیل سے کیوں ڈرنے لگی ۔”
ہما نے گھورا
"وہ اس لیے میں اچھا اور پیارا پولیس آفسر ہوں ورنہ میرا اصلی روپ دیکھ لے تو ڈر کر بھاگ جائے ۔”
"ہاں چھچھورے اب بھی ہیں اور وہ روپ میں دیکھ چکی ہوں اس لیے میں نہیں ڈرنے والے مسڑ ۔”
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/