میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا اس کے بغیر م…
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا
اس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا
دنیا میں گھوم پھیر کے بھی ایسے لگا مجھے
جیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا
کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاں
زینے بنا لیے ، کوئی اوپر نہیں گیا
جغرافیے نے کاٹ دیے راستے مرے
تاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہیں گیا
ایسی کوئی عجیب عمارت تھی زندگی
باہر سے جھانکتا رہا ، اندر نہیں گیا
ڈالا نہ دوستوں کو کبھی امتحان میں
صحرا میں میرے ساتھ سمندر نہیں گیا
اس وقت تک سلگتی رہی اس کی آرزو
جب تک دھوئیں سے سارا بدن بھر نہیں گیا
ذلت کے بھاؤ بک گئیں عزت مآبیاں
دستار اس کی جاتی رہی ، سر نہیں گیا
خواہش ہوس کے روپ میں اچھی نہیں لگی
دنیا کو فتح کر کے سکندر نہیں گیا
کاندھوں پہ اپنے لوگ اسے لے گئے کہاں
پیروں سے اپنے چل کے مظفر نہیں گیا
(مظفر وارثی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
No one died without him
I felt like this after moving in the world.
Like I didn't go out of my self
What a great our development
Made ladder, no one went up
Geography has cut the path.
History has a complaint that I didn't go home
There was such a strange building life
Looked from outside, didn't go inside
Didn't put friends in test.
Didn't go to sea with me in the desert
Till the time she kept burning her longing
Until the whole body is filled with smoke
The bhau of humiliation has been sold.
The Turban kept on his going, the head didn't go
Desire is not good in the form of lust
Alexander did not go by conquering the world
Where did my people take it on the wing
I did not go to muzaffar from my feet.
(Muzaffar Warsi)
Al-ạlmrsl :-:


