( غیــر مطبــوعــہ ) اے جدائی ! تری یاری ہے نبھان…

( غیــر مطبــوعــہ )
اے جدائی ! تری یاری ہے نبھانی میں نے
عمر ساری تری چوکھٹ پہ بِتانی میں نے
کب کہا میں نے کہ دنیا سے مَحبّت ہے مجھے
کب کہا میں نے کہ دنیا ہے کمانی میں نے
اب جہاں گیر ہی باقی ہے نہ انصاف اِس کا
اب کہاں جا کے ہے زنجیر ہلانی میں نے
اِس سے پہلے کہ کڑی دھوپ کا موسِــم آئے
فصل سایوں کی ہے راہوں میں اُگانی میں نے
تِیرہ ماحول کو رنگوں سے سجانے کے لئے
اک دھنک صحنِ فلک سے چُرانی میں نے
لذّتِ لمس بھی چکھنے کی ہے خواہش مجھ کو
سنگ باری سے بھی ہے جان بچانی میں نے
چاند سے لینی ہے ٹھنڈک بھی مجھے تھوڑی سی
اور سورج سے تمازت ہے چُرانی میں نے
مجھ کو معلوم ہے' رستے میں گھنا دشت بھی ہے
اب اِسی دشت میں ہے راہ بنانی میں نے
اک غزل تازہ کہ پنجابی ہے لہجہ جس کا
سوچتا ہو 'ں اُسے کس کو ہے سنانی میں نے
میــرؔ و غالبؔ کو بُلا کر مِرے کمرے میں' خمــارؔ !
رات بھر شعر کی محفل ہے سجانی میں نے
( سُــلیمان خمـــارؔ )
— with Suleman Khumar.


