منتخب غزلیں

راحت اندوری​ . ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے…

راحت اندوری​
.

ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی، تو مِری جان! لُٹاتے جاتے

اب تو ہر ہاتھ کا پتّھر ہَمَیں پہچانتا ہے
عُمر گذری ہے تِرے شہر میں آتے جاتے

رینگنے کی بھی اِجازت نہیں ہم کو، ورنہ !
ہم جِدھر جاتے، نئے پُھول کِھلاتے جاتے

مجھ میں رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید
لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

اب کہ مایُوس ہُوا یاروں کو رُخصت کر کے
جا رہے تھے ، تو کوئی زخم لگاتے جاتے

ہم سے پہلے بھی مُسافر کئی گزرے ہونگے
کم سے کم، راہ کا پتّھر تو ہٹاتے جاتے

راحت اندوری​


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/