منتخب غزلیں

آج اُردو کے مشہور شاعر اسرار الحق محاز کی سالگرہ ہے۔ اسرار الحق مجاز 19 اکتوبر …

آج اُردو کے مشہور شاعر اسرار الحق محاز کی سالگرہ ہے۔

اسرار الحق مجاز 19 اکتوبر 1911ء کو ردولی، ضلع بارہ بنکی، اترپردیش کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ کچھ عرصہ ممبئی کے محکمہ اطلاعات میں کام کیا۔ پھر لکھنؤ کے رسالہ “نیا ادب” کی ادارت سے وابستہ ہوئے۔ کچھ عرصہ وہ آل انڈیا ریڈیو کے رسالے ” آواز ” کے نائب مدیر بھی رہے۔

مجاز کی شاعری لکھنؤ، علی گڑھ اور دہلی کی فضاؤں میں پروان چڑھی اور وہ بحیثیت شاعر جلد مقبول ہو گئے۔ وہ عاشق مزاج اور رومان پسند شاعر تھے۔ غنائیت بھی مجاز کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ ان کی شاعری کا دوسرا رخ انقلابی ہے اور ان کے ہاں انقلاب کا ایک مدھم سا شعور ملتا ہے جس نے نوجوانوں میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ مجاز بنیادی طور پر غزل اور نظم کے شاعر تھے۔

مجاز کی شاعری کا پہلا مجموعہ "کلامِ آہنگ” کے نام سے 1938ء میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ "شبِ تاب” اور تیسرا "سازِ نو” کے نام سے شائع ہوئے۔

وہ دہلی میں ایک شادی شدہ خاتون کی محبت میں گرفتار ہوئے جس کا اثر انکی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی یکطرفہ محبت کے باعث مجاز نے عمر بھر شادی نہ کی، شراب نوشی کے عادی ہوئے اور کچھ عرصہ رانچی کے ذہنی امراض کے ہسپتال میں بھی گزارنا پڑا۔ انہی حالات میں 5 دسمبر 1955ء کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے اور وہیں نشاط گنج کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔


آج اُردو کے مشہور شاعر اسرار الحق محاز کی سالگرہ ہے۔

اسرار الحق مجاز 19 اکتوبر 1911ء کو ردولی، ضلع بارہ بنکی، اترپردیش کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ کچھ عرصہ ممبئی کے محکمہ اطلاعات میں کام کیا۔ پھر لکھنؤ کے رسالہ “نیا ادب” کی ادارت سے وابستہ ہوئے۔ کچھ عرصہ وہ آل انڈیا ریڈیو کے رسالے ” آواز ” کے نائب مدیر بھی رہے۔

مجاز کی شاعری لکھنؤ، علی گڑھ اور دہلی کی فضاؤں میں پروان چڑھی اور وہ بحیثیت شاعر جلد مقبول ہو گئے۔ وہ عاشق مزاج اور رومان پسند شاعر تھے۔ غنائیت بھی مجاز کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ ان کی شاعری کا دوسرا رخ انقلابی ہے اور ان کے ہاں انقلاب کا ایک مدھم سا شعور ملتا ہے جس نے نوجوانوں میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ مجاز بنیادی طور پر غزل اور نظم کے شاعر تھے۔

مجاز کی شاعری کا پہلا مجموعہ "کلامِ آہنگ” کے نام سے 1938ء میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ "شبِ تاب” اور تیسرا "سازِ نو” کے نام سے شائع ہوئے۔

وہ دہلی میں ایک شادی شدہ خاتون کی محبت میں گرفتار ہوئے جس کا اثر انکی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی یکطرفہ محبت کے باعث مجاز نے عمر بھر شادی نہ کی، شراب نوشی کے عادی ہوئے اور کچھ عرصہ رانچی کے ذہنی امراض کے ہسپتال میں بھی گزارنا پڑا۔ انہی حالات میں 5 دسمبر 1955ء کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے اور وہیں نشاط گنج کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/