منتخب غزلیں

تبسّم آفریدی ملیح آبادی کا یومِ پیدائش May 19 مالک…

تبسّم آفریدی ملیح آبادی کا یومِ پیدائش
May 19
مالک بحر و بر
ہے تجھے تو خبر
تیرے پیش نظر
میرے شام و سحر
آنسووں سے ہیں تر
مالک بحر و بر
دشت ویران ہے
شہر گنجان ہے
دل پریشان ہے
آنکھ حیران ہے
اب میں جاؤں کدھر ؟
مالک بحر و بر
تو ہے افلاک پر
میں تیری خاک پر
سر ہے خاشاک پر
گرد پوشاک پر
منہ چھپاؤں کدھر ؟
مالک بحر و بر
میں بہت رو چکی
اپنا سب ،کھو چکی
دل میں غم بو چکی
در بدر ہو چکی
دے مجھے رہ گزر
مالک بحر و بر
یہ جہاں خوب تھا
دل کو مرغوب تھا
مجھ سے منسوب تھا
میرا ،محبوب تھا
اب ہے سونی ڈگر
مالک بحر و بر
ہوں تیرے روبرو
ہے تیری جستجو
کر مجھے سرخرو
دل سے ہوں با وضو
تیرے قدموں پہ سر
مالک بحر و بر

تبسم ( آفریدی ملیح آبادی)


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/